پاکستان آئی ایم ایف سے معاہدے کی کتنی بڑی قیمت ادا کرے گا؟ شہباز رانا نے بتادیا

تازہ ترین

تازہ ترین

آئی ایم ایف
(فوٹو: گراؤنڈ زیرو)

اسلام آباد: معروف تجزیہ کار شہباز رانا کا کہنا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے جو 7ارب ڈالرز کا معاہدہ کررہا ہے، اس کی اصل قیمت بہت بڑی ہے۔

نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے پروگرام دی ریویو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کار شہباز رانا نے کہا کہ آئی ایم ایف نے پاکستنا پر کوئی بھی نیا اسپیشل اکنامک زون یا ایکسپورٹ پراسیسنگ زون نہ بنانے کی شرط عائد کی۔ ہم نے قرض کی خاطر اتنی بڑی شرط تسلیم کرلی۔

پروگرام کے دوران تجزیہ کار شہباز رانا نے کہا کہ آئی ایم ایف کا ماننا ہے کہ اسپیشل زونز میں جو مراعات دی جارہی ہیں، وہ مفید نہیں۔ ایک مخصوص طبقہ فائدہ اٹھاتا ہے اور مجموعی طور پر اس سے معیشت بہتر نہیں ہوتی، حالانکہ آئی ایم ایف کی یہ منطق ٹھیک نہیں ہے۔

تجزیہ کار شہباز رانا نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ برآمدات کا نہ بڑھنا ہے۔ سی پیک کے تحت چینی انڈسٹری پاکستان آنی تھی۔ آئی ایم ایف کے باعث سی پیک کا دوسرا مرحلہ سست پڑنے کا خدشہ ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم نے یہ شرط کیوں مانی؟  جبکہ حکومت کی شاہ خرچی جاری ہے۔

شہباز رانا نے کہا کہ جمعہ کے روز وزیراعظم شہباز شریف نے 20 اراکینِ قومی اسمبلی کو مختلف وزارتوں کا پارلیمانی سیکریٹری مقرر کردیا۔ حکومت جن وزارتوں اور ڈویژنز کو ختم کرنا چاہتی ہے، ان کے بھی پارلیمانی سیکریٹریز مقرر کردئیے گئے۔ ایسے کاموں کی گنجائش نہیں تھی۔

Related Posts