پاکستان کے بعض شہروں میں لاعلمی کے باعث نارنجی رنگ کی ویزلین ہونٹوں یا چہرے پر لگانے کا رجحان پایا جاتا ہے، حالانکہ یہ ویزلین صرف بالوں کے لیے تیار کی جاتی ہے۔ اس میں شامل رنگ، خوشبو اور دیگر اجزا بالوں کے لیے تو موزوں ہو سکتے ہیں، مگر ہونٹوں جیسی نازک جلد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
نارنجی ویزلین کا درست استعمال یہ ہے کہ اسے بالوں کی خشکی دور کرنے، روکھے بالوں میں نرمی لانے اور چمک پیدا کرنے کے لیے لگایا جائے۔ خاص طور پر سردیوں کے موسم میں جب بال خشکی اور بے رونقی کا شکار ہو جاتے ہیں، تو ہلکی مقدار میں ویزلین انگلیوں پر لے کر بالوں کے سروں (ٹپس) پر لگانا مفید رہتا ہے۔ اسے جڑوں یا سر کی جلد پر زیادہ مقدار میں لگانے سے گریز کریں تاکہ چکنائی اور ڈینڈرف نہ بڑھے۔
یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ طویل عرصے سے ویزلین چہرے یا ہونٹون پر لگانے والے افراد یا تو ناخواندگی کی بنیاد پر یا پھر اورنج ویزلین پر درج واضح ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ عمل جاری رکھتے ہیں اور بعض کا خیال یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ویزلین انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی، تو ہر شخص کے ہونٹ اور جلد کی حساسیت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ اس لیے یہ مؤقف درست نہیں۔
نارنجی ویزلین ہونٹوں کے لیے مناسب نہیں۔ ہونٹوں پر لگانے سے جلن، الرجی، سیاہی یا مستقل خشکی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس میں موجود رنگ اور خوشبو ہونٹوں کے لیے محفوظ نہیں ہوتے۔ ہونٹوں کی نگہداشت کے لیے ہمیشہ سفید، بے رنگ اور بغیر خوشبو والی ویزلین یا خاص طور پر ایسی مصنوعات استعمال کریں جن پر لپ سیف درج ہو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








