بلوچستان میں سمندر نے رنگ کا خزانہ اگل دیا، پسنی سے جیوانی تک پانی کا رنگ سبز

تازہ ترین

تازہ ترین

رنگ کا خزانہ
(فوٹو: آن لائن)

بلوچستان میں سمندر نے رنگ کا خزانہ اگل دیا، پسنی سے جیوانی تک سمندری پانی کا رنگ سبز ہوگیا ہے، یہ قدرتی نظارہ عوام اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پسنی سے جیوانی تک سمندر کے پانی کا رنگ سبز ہونے کی وجہ نوکٹیلوکا بلوم کو قرار دیا جارہا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران ٹیکنیکل ایڈوائزر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان معظم خان نے کہا کہ نوکٹیلوکا بلوم نومبر سے فروری کے دوران ہر سال ظاہر ہوتا ہے۔

گفتگو کے دوران ٹیکنیکل ایڈوائزر معظم خان نے کہا کہ اس قدرتی موسمی عمل کا آبی آلودگی سے کوئی تعلق نہیں۔ نوکٹیکلو بلوم عام طور پر سی اسپارکل کہلاتا ہے جو سبز کے علاوہ سرخ، نارنجی یا بے رنگ بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ یہ زہریلا نہیں ہوتا، اس لیے مچھلیوں کی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ رات کے وقت نوکٹیلوکا بلوم سمندر میں نیلی روشنی کا باعث بنتا ہے اور اگر یہ ختم ہوجائے تو کچھ عرصے کیلئے بو بھی آسکتی ہے جو قدرتی عمل کا حصہ ہے۔

نوکٹیلوکا بلوم کیا ہے؟

نوکٹیلوکا بلوم دراصل ایک قدرتی حیاتیاتی عمل ہے جس میں سمندر میں موجود خوردبینی جاندار، جنہیں فائٹوپلانکٹن کہا جاتا ہے، مخصوص موسمی حالات میں تیزی سے بڑھتے ہیں۔ یہ جاندار سمندری غذائی زنجیر کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں کیونکہ یہی چھوٹی مخلوق مچھلیوں اور دیگر آبی حیات کے لیے خوراک کا ابتدائی ذریعہ بنتی ہے۔ اس عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمندر میں غذائی اجزا کی مقدار متوازن اور قدرتی نظام فعال ہے۔

ماہرین کے مطابق نوکٹیلوکا بلوم سمندری ماحولیاتی نظام کے لیے کئی حوالوں سے فائدہ مند ہوتا ہے۔ یہ عمل سمندر میں موجود غذائی اجزا کو گردش میں لاتا ہے، جس سے آبی حیات کی افزائش بہتر ہوتی ہے۔ چونکہ یہ بلوم زہریلا نہیں ہوتا، اس لیے یہ مچھلیوں، جھینگوں اور دیگر سمندری جانداروں کے لیے نقصان دہ ثابت نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات ان کی افزائش میں مددگار بھی بنتا ہے۔

قدرتی طور پر رونما ہونے والا یہ منظر اس بات کی علامت ہے کہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں سمندری نظام ابھی تک بڑی حد تک قدرتی توازن میں ہے۔ ایسے مظاہر نہ صرف سائنسی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ عوام میں فطرت کے بارے میں آگاہی اور دلچسپی بھی بڑھاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ساحلی ماحول کو آلودگی اور غیر ضروری انسانی مداخلت سے محفوظ رکھا جائے تو ایسے قدرتی نظارے مستقبل میں بھی اسی طرح برقرار رہ سکتے ہیں، جو فطرت اور انسان دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔

Related Posts