اسلام آباد: عسکری اعتبار سے جنگ ستمبر 1965 دنیا کی تاریخ میں ناقابلِ فراموش دن ہے جب پاکستانی قوم نے خود سے کئی گنا بڑے دشمن بھارت کو شکست دے دی۔
ستمبر 1965 کی جنگ میں بھارت نے کئی گنا زیادہ لشکر اور دفاعی وسائل ہمارے خلاف جھونکتے ہوئے چھوٹے سے پڑوسی ملک پاکستان پر غیر اعلانیہ طور پر رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چوری چھپے حملہ کردیا تاہم پاکستانی قوم اور پاک فوج نے اس کا منہ توڑ جواب دیا۔
قوم نے بھارتی حملے کا بے مثال عزم و ہمت اور بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا اور دشمن کے سارے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ عالمی سطح پر بھی شرمندگی بھارتی حکومت کے حصے میں آئی۔ دو طرفہ جنگ نے ثابت کیا کہ کوئی بھی جنگ فوج نہیں، بلکہ قوم ہی جیتتی یا ہارتی ہے۔
صرف فوجی نہیں بلکہ طلبہ، ادیب، شاعر، دانشور، ڈاکٹر، فنکار، اداکار، گلوکار، محنت کش اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے پوری قوت سے بھارتی حملوں کا باآوازِ بلند جواب دیا۔ وسائل نہ ہونے کے باوجود پاکستانیوں کی ہمت اور جذبے نے دنیا کو حیران کردیا۔
بھارت نے بلا جواز رن آف کچھ کا طے شدہ قضیہ زندہ کردیا تھا۔ جب 6ستمبر کی صبح کو بھارت نے حملہ کیا تو فوجی جوان اور پوری قوم نے جاگ کر اپنے فرائض کی انجام دہی شروع کردی۔ صدر مملکت فیلڈ مارشل ایوب خان کے ایمان افروز نے قوم کے جذبہ شہادت کو چارچاند لگا دئیے۔
بھارت کو ملنے والے قوم کے جواب نے دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔ بھارتی فوج کے کمانڈر انچیف نے دعویٰ کیا تھا کہ شام کو شراب کی محفل لاہور کے جم خانے میں سجے گی تاہم پاکستان کی جانب سے ایسا جواب آیا کہ کمانڈر انچیف کو مرتے دم تک منہ چھپا کر رہنے پر مجبور ہونا پڑا۔
میجر راجہ عزیز بھٹی نے اپنی جان دے کر بھی وطن کی حفاظت کی اور ایسی بے مثال قربانیاں دیں جنہیں رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ پاک فوج کے جوانوں نے چونڈہ کے سیکٹر پر اسلحہ و بارود کی بجائے اپنی جسموں سے بم باندھ کر علاقے کو بھارتی فوج اور ٹینکس کا قبرستان بنا دیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








