سیلاب کے بعد پاکستان کی سیاست میں ایک طوفان برپا ہے۔ حکمراں اتحاد کی دو بڑی جماعتیں آمنے سامنے ہیں۔ اقدامات سے امداد تک کی بحث اس وقت مرسوں مرسوں تک پہنچ چکی ہے۔ پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری روز پیپلز پارٹی کو آئینہ دکھاتی ہیں اور جیالے برا مان جاتے ہیں۔
ویسے سچ تو یہ ہے کہ پنجاب نے واقعی سندھ کے ساتھ زیادتی کی ہے، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں نہ روزگار ہے، نہ بیرونی سرمایہ کاری۔ خاص طور پر سندھ کا تو حال ہی برا ہے، اور معاشی حب کہلانے والا کراچی اپنی تباہی پر نوحہ کناں ہے۔
سندھ کے دور دراز کے پسماندہ گاؤں اور دیہاتوں سے لے کر کراچی کے ڈیفنس، کلفٹن جیسے پوش علاقوں میں بسنے والے نام نہاد وڈیروں کو نہ اپنے آبائی علاقوں کی کوئی فکر ہے، نہ کراچی سے کوئی لگاؤ۔
سندھ پر کم و بیش دو دہائیوں سے بلا شرکتِ غیرے راج کرنے والوں نے کرپشن کے ایسے ایسے ریکارڈ قائم کیے ہیں کہ سندھ کی کھولیوں سے نکلنے والے آج خود ساختہ سائیں بن کر اربوں کھربوں کے اثاثے بنا چکے ہیں۔ سندھ کے حکمرانوں کو عوام کی فلاح سے زیادہ اپنی بہبود کی فکر ہوتی ہے۔
یہاں بات ہورہی تھی پنجاب کی زیادتی کی۔ تو کیا ہوتا اگر پنجاب تھوڑا سا سیلاب سندھ میں بھی آنے دیتا؟ بڑے بھائی نے سیلاب کو پنجاب میں روک کر سندھ کے ساتھ واقعی بڑی زیادتی کی ہے۔ بڑے بھائی کو کیا پتہ کہ چھوٹے بھائی نے سیلاب کے لیے کتنے خواب دیکھ رکھے تھے۔
پنجاب کو یاد نہیں کہ گزشتہ سیلابوں نے سندھ کے بھائیوں کو روزی روٹی کا ذریعہ مہیا کیا تھا۔ اسی لیے تو سندھ کے حکمرانوں نے سیلاب کے استقبال کے لیے اقدامات اقدامات کے بجائے امداد امداد کے نعرے لگانے شروع کر دیے تھے۔
بڑے بھائی پنجاب کو کیا خبر کہ سیلاب نہ آنے سے سندھ کے بابوؤں کے کتنے ارمان چکنا چور ہوگئے، کتنے وڈیروں کے بیرونِ ملک دورے منسوخ ہوگئے، لیگل اور آف شور بیگمات سے کیے گئے وعدے ادھورے رہ گئے، بچوں کے لیے مہنگی گاڑیوں کے خواب ادھورے رہ گئے۔
بڑا بھائی بھول گیا کہ گزشتہ سیلابوں میں چھوٹے بھائی سندھ کو سانس لینے کا موقع ملا تھا، ورنہ بھوک اور بدحالی نے اسے جاں کنی کی حالت میں لا پھینکا تھا۔ وہ تو بھلا ہو سیلاب کا کہ چھوٹے بھائی کو کچھ کھانے کو ملا۔ پھر چاہے دو سو کی جالی ہزاروں روپے میں مچھر دانی کے نام پر فروخت کی گئی۔
پنجاب کا کیا بگڑ جاتا اگر تھوڑا سا سیلاب سندھ کو بھی دے دیتا؟ بے چارہ سندھ تو ہمیشہ یہ دعا کرتا ہے کہ کوئی قدرتی آفت آجائے تاکہ ہمیں بھی ڈالرز کا منہ دیکھنا نصیب ہو۔ اور ظلم یہ کہ پنجاب نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی تجویز بھی نہیں مانی، تاکہ بے چارہ چھوٹا بھائی بی آئی ایس پی سے دال روٹی کا آسرا نہ کرسکے۔
یوں تو پنجاب کی بات بھی کسی حد تک ٹھیک ہے کہ گھر بار لٹانے والوں کو 12 ہزار کی بی آئی ایس پی امداد کے بجائے مکمل بحالی میں مدد دی جائے، لیکن سندھ کو اس سے کیا غرض؟ بے چاروں کو امید تھی کہ بی آئی ایس پی کے کچھ پیسے مل جائیں گے تو چند روز کی روٹی روزی کا آسرا بن جائے گا، مگر پنجاب سے یہ بھی برداشت نہ ہوا کہ چھوٹا بھائی چند روز نکال سکے۔
مریم بی بی پہلی بار اقتدار میں آئی ہیں، اس لیے انہیں کیا پتہ کہ سیاست کیسے کی جاتی ہے۔ مریم بی بی اگر کچھ سیکھنا چاہتی ہیں تو چھوٹے بھائی سندھ سے سیکھ لیں۔ مریم بی بی! کام کرنے سے کچھ نہیں ہوتا، سندھ کے وڈیروں سے پوچھیں، مجال ہے انہوں نے کبھی عوام کی بھلائی کا سوچا بھی ہو! لیکن کبھی بھٹو زندہ ہے، کبھی مرسوں مرسوں کے نعرے لگا کر وہ 17 سال سے سندھ پر حکومت کر رہے ہیں۔
اگر کوئی کام کی بات سیکھنی ہو تو چھوٹوں سے بھی سیکھ لینی چاہیے، کیونکہ مریم بی بی کو کیا معلوم کہ روز نت نئے منصوبوں اور عوامی فلاح کے کاموں سے کوئی سیاستدان نہیں بنتا۔ بس نعرے لگائیں، بیوقوف بنائیں، اور حکومت کرتے جائیں۔
اگر یقین نہیں تو چھوٹے بھائی کو دیکھ لیں، 17 سال سے کراچی سمیت پورے سندھ کو ایسی ترقی دی ہے کہ آج تک کراچی کے عوام کو نہ پانی میسر ہے نہ ٹرانسپورٹ کا نظام۔ بس ایک چیز ہے بھٹو زندہ ہے!
مریم بی بی! سندھ بھلے چھوٹا بھائی ہے، مگر آپ سے بہت عقلمند ہے۔ کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر سندھ کے عوام کے مسائل حل ہوگئے یا وہ باشعور ہوگئے تو پھر ان سیاستدانوں کے آگے ہاتھ پاؤں جوڑ کر سائیں سائیں کون کرے گا؟
مریم بی بی! چھوٹے بھائی سے کوئی سبق سیکھیں کہ سیاستدان بننے کے لیے کام کرنا ضروری نہیں، بلکہ کام نہ کرنا ضروری ہے، تاکہ آپ کی تجوریاں بھرتی رہیں اور لوگ سائیں سائیں کرتے آپ کے آگے رلتے پھرتے رہیں۔
مریم بی بی! آپ سب سے بڑے صوبے کی حکمران ہیں، تو آپ کو دل بھی بڑا رکھنا چاہیے تھا۔ اگر تھوڑا سا سیلاب چھوٹے بھائی کو بھی دے دیتیں تو شاید اس کا کچھ بھلا ہوجاتا، لیکن آپ نے پہلے سیلاب اور اب بی آئی ایس پی سے امداد نہ دے کر چھوٹے بھائی سے واقعی زیادتی کی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








