ملک میں ہر طرف فائر وال کا شور ہے، انٹرنیٹ سلو ڈاؤن ہے، جس پر طرح طرح کی افواہیں اور ڈراوے پھیلائے اور سنے سنائے جا رہے ہیں، آخر یہ سب کیا ہے اور کیا ہونے جا رہا ہے، اس سلسلے میں ملک کی ایک ممتاز آئی ٹی اسپیشلسٹ خاتون نے بات کی ہے۔
کچھ عرصے سے انٹرنیٹ سلو ڈاون ہے، واٹس ایپ اور فیس بک سمیت تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نہ صرف انٹرنیٹ بہت کمزور ہے بلکہ صوتی پیغامات، گرافس، تصاویر اور ویڈیوز کی ترسیل اور تبادلہ بھی تقریبا معطل ہوکر رہ گیا ہے۔
اس تمام صورتحال پر نہ صرف عوامی سطح پر بات چیت ہو رہی ہے بلکہ یہ معاملہ اب عدالتوں میں بھی جا پہنچا ہے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد ہائی کورٹ کے روبرو اس حوالے سے زیر سماعت مقدمے میں حکومت نے یہ موقف اختیار کیا کہ زیر سمندر کیبلز کو نقصان پہنچا ہے۔
حکومتی موقف کے مطابق زیر سمندر نیٹ کیبلز کو نقصان پہچنے کے باعث انٹرنیٹ کی فراہمی میں تعطل ہے اور یہ خرابی اکتوبر تک دور کی جاسکے گی۔
مگر آئی ٹی اسپیشلسٹس کے مطابق حکومت انٹرنیٹ کی سروس کو چھلنی سے گزارنا چاہتی ہے، اب پہلے کی طرح بلا روک ٹوک اور بلاچھان بین کے انٹرنیٹ تک عام رسائی ممکن نہ ہوگی۔
آئی ٹی ماہر کنول چیمہ نے حال ہی میں صحافی منصور علی خان سے ان کے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے متوقع حکومتی رکاوٹوں پر بات کی ہے۔
کنول چیمہ کے مطابق فائر وال انٹرنیٹ کو کنٹرول کرنے کا ایک آلہ ہے، ان کے مطابق فائر وال البتہ اتنا خطرناک نہیں جتنا اس کے متعلق ڈراوے پھیلائے گئے ہیں۔
کنول چیمہ کا کہنا ہے کہ فائر وال ڈیوائس واٹس ایپ کے میسیجز، وائسز، کالز اور ویڈیوکالز کو کنٹرول یا ان تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا۔
کنول چیمہ نے بتایا کہ فائر وال سے زیادہ خطرناک یا کنٹرول کرنے والا سسٹم ڈی پی آئی ہے، جو انٹرنیٹ کی بہت سی سروسز کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کے مطابق حکومت کے پاس البتہ واٹس ایپ سمیت ڈیوائس کی پرائیویسی تک رسائی کے کئی طریقے ہیں، انہوں نے اس حوالے سے پی ٹی اے کی جانب سے او ٹی پی بھیجے جانے کے متعلق بھی بات کی۔
یہ معلوم کرنے کا کیا طریقہ ہے کہ آپ کا موبائل کسی کے کنٹرول اور رسائی میں ہے، کنول چیمہ نے اس پر بھی روشنی ڈالی اور اپنی گفتگو میں موبائل کے کئی فنکشنز کو چیک کرنے کی تجویز دی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








