عمران خان کا مہدی حسن کو دیا گیا انٹرویو کیسے پڑھ سکتے ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

How to read Imran Khan's interview with Mehdi Hasan?

پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے اپنے دور اقتدار کا واحد پچھتاوا یہ ہے کہ میں نے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ پر اعتماد کیا۔

’زیٹیو‘ کے صحافی مہدی حسن نے عمران خان کو بذریعہ خط سوالات جیل بھیجے تھے کیونکہ جیل میں ملاقات کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے صحافی کو خط و کتاب پر اکتفا کرنا پڑا۔یہ انٹرویو ’زیٹیو‘ پر صرف ادائیگی کرنے والے یعنی پیڈ صارفین کیلئے دستیاب ہے تاہم ایم ایم نیوز کے قارئین کیلئے ہم انٹرویو کے اقتباسات پیش کررہے ہیں لیکن اگر آپ مکمل انٹرویو پڑھنا چاہتے ہیں تو اپ کو زیٹیو کی سائٹ پر ادائیگی کرنا ہوگی جس کا لنک یہ ہے۔

https://zeteo.com/p/exclusive-imran-khan-talks-to-mehdi

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نےامریکی ادارے ’زیٹیو‘ کے صحافی مہدی حسن کو انٹرویو میں ایک بار پھر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

بانی پی ٹی آئی سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی قید کا ذمہ دار کس کو سمجھتے ہیں تو عمران خان نے کہا کہ مجھے یقین ہے یہ سزا جنرل باجوہ کی ترتیب کردہ ہے اور میں کسی اور کو اس کا ذمہ دار نہیں سمجھتا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ نے یہ منصوبہ ترتیب دیا اور اس پر عمل کیا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ قمر جاوید باجوہ نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر افراتفری پھیلانے کے لیے جھوٹی اور من گھڑت داستانیں اور بیانیے بنائے تاکہ وہ دوسری مرتبہ بطور آرمی چیف اپنی مدت ملازمت میں توسیع کرا سکیں۔

عمران خان نے مزید کہا کہ قمر جاوید باجوہ جمہوریت اور پاکستان پر ان کے اقدامات کی وجہ سے مرتب ہونے والے نقصان دہ اثرات کو سمجھنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے بغاوت میں ملوث تھی تو اس بار عمران خان نے اس معاملے کی تمام تر ذمے داری سابق آرمی چیف جنرل باجوہ پر عائد کی۔

بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ جنرل باجوہ نے اکیلے ہی امریکا جیسے ممالک میں میرے بارے میں کہانیاں پھیلائیں اور ایسے ظاہر کیا کہ جیسے میں امریکا مخالف ہوں یا ان کے ساتھ اچھے تعلقات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔

عمران نے کہا کہ اقتدار کے لیے ان کی ہوس نے انہیں ناقابل اعتبار بنا دیا تھا اور وہ ذاتی مفاد کے لیے وہ سوچے سمجھے بغیر ایسے فیصلے کرنے لگے جس سے ملک کو نقصان پہنچا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے لیے مسلسل جدوجہد کی ہے، اگر معاشرے میں یکساں بنیادوں پر انصاف فراہم کیا جا رہا ہوتا تو ملکی سیاست میں مجھ جیسے شخص کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔

عمران خان سے سعودی عرب کے ساتھ ساتھ پاکستانی عسکری اور فوجی قیادت سے تعلق خراب کرنے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں نے اپنی حکومت گرائے جانے کے بعد بھی زیادہ تر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے تھے، جنرل باجوہ کے زہریلے بیانیے کا اثر کچھ وقت تک تو رہ سکتا ہے لیکن یہ دیرپا نہیں رہے گا۔

بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ لوگوں میں میری مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ میں ان سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا، وہ جانتے ہیں کہ کوئی رقم مجھے خرید یا تبدیل نہیں کر سکتی، وہ جانتے ہیں کہ میں کبھی جھکوں گا اور نہ انہیں مایوس کروں گا۔

عمران خان سے پوچھا گیا کہ دنیا کے لیے ان کا کیا پیغام ہے تو عمران خان نے کہا کہ یہ صرف عمران خان کی بات نہیں ہے، یہ جمہوریت اور ڈھائی کروڑ عوام کے حق خود ارادیت پر حملہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت پر ہر ممکن طریقے سے حملہ کیا گیا اور اس ملک کی ہر پارٹی اس الیکشن کو ملکی تاریخ کا بدترین الیکشن قرار دیتی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھاکہ زیادہ تر ممالک ہماری فوج کو غیر مستحکم سیاسی منظر نامے میں ایک مستحکم قوت کے طور پر دیکھتے ہیں، جب ملک کی ’ایک مستقل طاقت‘ کا سربراہ وحشیانہ طاقت اور دھوکا دہی کا بے دریغ استعمال کرتا ہے تو بہت سے ممالک کے لیے بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ لوگ میرے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کے بارے میں نہ بولیں لیکن دنیا کو جمہوریت اور پاکستان کے ان 25 کروڑ عوام کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے جن کا مینڈیٹ دن دیہاڑے چرا لیا گیا۔

بانی پی ٹی آئی سے سے پوچھا گیا کہ کیا وہ موجودہ حکومت کو تسلیم کرتے ہیں تو عمران خان نے کہا کہ یہ حکومت جائز نہیں ہے اور مسلم لیگ(ن) پارلیمنٹ میں بمشکل ہی کوئی سیٹ جیت سکی تھی۔

عمران خان نے دعویٰ کیا کہ کوئی بھی پاکستانی یہی کہے گا کہ موجودہ حکومت جائز نہیں ہے، ہماری شناخت اور قیادت کو کمزور کرنے کی کوششوں کے باوجود انتخابات میں میری پارٹی کی جیت واضح تھی۔

انہوں نے صحافی کو بتایا کہ مجھے اپنے کیے پر کوئی پچھتاوا نہیں اور میں ایک پاکستانی اور مسلمان کے طور پر اپنا فرض ادا کر رہا ہوں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ انتخابات سے عوام کے اعتماد اور مینڈیٹ کی بدولت ملک میں استحکام لانا ہوتا ہے، اس الیکشن نے نہ تو کچھ حاصل تو نہ کیا بلکہ الٹا عوام اور حکمران اشرافیہ کے درمیان غیر یقینی صورتحال اور عدم اعتماد کی خلیج کو مزید وسیع کردیا ہے۔

Related Posts