پنجاب میں اسموگ، اپنی صحت کیسے محفوظ بنائی جاسکتی ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

پنجاب میں اسموگ کے باعث ماحولیاتی ایمرجنسی نافذ کی گئی، صحت پر اسموگ کے اثرات انتہائی تباہ کن ہوسکتے ہیں جبکہ نگران حکومت اسموگ کے خلاف متحرک ہے۔

فضائی آلودگی کے صحت پر اثرات سنگین ہوسکتے ہیں جبکہ فالج، پھیپھڑوں کا کینسر اور دل کے امراض سے ہونے والی اموات میں سے 33 فیصد فضائی آلودگی کے باعث ہوتی ہیں جس کا اثر تمباکو نوشی کے مساوی قرار دیا جاتا ہے۔ 

اسموگ سے مراد؟

غیر منظم صنعت کاری اور تیز رفتار فضائی آلودگی سے شہری آبادیوں میں خوف کی فضا پیدا ہوئی ہے۔ اسموگ ایسے شہری علاقوں میں ظاہر ہوتا ہے جہاں فضائی آلودگی کا ارتکاز بہت زیادہ ہو۔

آبادی کی کثافت، نقل و حمل، آلودگی پھیلانے والی فیکٹریاں اور دیگر صنعتی سہولیات، یہ تمام عوامل اسموگ کے امکانات کو فروغ دیتے ہیں۔ اسموگ فضائی آلودگی کی ایک ایسی شکل بن چکی ہے جو آنکھوں سے دیکھی جاسکتی ہے۔

اسموگ کے باعث سڑکوں پر حدِ نگاہ کم ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں ٹریفک حادثات اور فضائی پروازیں منسوخ ہونے کا سلسلہ چل نکلتا ہے۔ پنجاب کے 3 ڈویژنز میں 4روز کیلئے اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا۔

انسانی صحت پر اثرات

مجموعی صحت پر اسموگ کے اثرات مختلف نوعیت کے ہوسکتے ہیں جبکہ بزرگ اور بچے اسموگ سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ اسموگ کے باعث سانس کی بیماریاں جنم لیتی ہیں جن میں دمہ اور پھیپھڑوں کی بیماریاں شامل ہیں۔

حاملہ خواتین کیلئے اسموگ ایک خاص خطرہ ہے۔ آلودہ ذرات سے خواتین کے حمل پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اسقاطِ حمل ہوسکتا ہے جبکہ سائنسی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ اس سے بعض نفسیاتی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔

نظامِ تنفس پر اثرات

واضح طور پر کچھ سانس کی بیماریاں مثلاً دمہ او رپھیپھڑوں کی بیماریاں جینیاتی بھی ہوتی ہیں، تاہم اسموگ کے باعث ان کی علامات مزید سنگین ہوسکتی ہیں۔ انسانی جسم پر غیر فعال تمباکو نوشی اور اسموگ کے اثرات ایک جیسے ہوتے ہیں۔

دیگر انسانی اعضاء پر اثرات

بدقسمتی سے اسموگ کے باعث انسانی سانس تک جو منفی ذرّات پہنچتے ہیں وہ پھیپھڑوں کے ذریعے خون میں شامل ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں ایسے ذرّات انسانی جسم کے اعضاء میں جمع ہونے سے نت نئی پیچیدیاں جنم لے سکتی ہیں۔

خاص طور پر انسان کا دورانِ خون بھی متاثر ہوسکتا ہے، بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جس کے نتیجے میں دل کے دورے اور فالج کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

حفاظتی تدابیر

ممکن ہو تو اسموگ سے متاثرہ علاقوں سے دور رہیں۔ مثال کے طور پر جن لوگوں کی پنجاب میں رہائش نہیں ہے، انہیں آج کل صرف سیر وتفریح کی غرض سے پنجاب کا رخ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ پنجاب میں اسموگ کے باعث صورتحال مخدوش ہے۔

سانس کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ پنجاب میں رہنے والے افراد یا پھر ایسے دیگر علاقوں اور شہروں میں بسنے والے لوگ جنہیں اسموگ کا سامنا ہے، انہیں اینٹی اسموگ ماسک پہننا اور بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہئے۔ 

 

Related Posts