گزشتہ روز افواج پاکستان کا ایوی ایشن ہیلی کاپٹر اوتھل سے کراچی جاتے ہوئے لاپتہ ہوا تھا۔پاک فوج کےتعلقات عامہ کےڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل بابرافتخار کےمطابق ہیلی کاپٹر میں کور کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی اور ڈی جی کوسٹ گارڈ سمیت چھ افراد سوار تھے۔
قبل ازیں بلوچستان کی خضدار پولیس نے ہیلی کاپٹر کا ملبہ ملنے کی تصدیق کی۔ ڈی آئی جی خضدار کا گزشتہ روز آرمی ایوی ایشن کے لاپتہ ہونے والے ہیلی کاپٹر کے متعلق کہنا تھا کہ ملبہ مل چکا ہے۔
ڈی آئی جی خضدار پرویز عمرانی نے کہا کہ ہیلی کاپٹر کا ملبہ موسیٰ گوٹھ سے سسی پنوں مزار کے قریب ملا جو کراچی سے 45 کلومیٹر دور اور موسیٰ گوٹھ کا قریبی درے گئی پہاڑی سلسلہ کہلاتا ہے۔
پاک فوج کا ہیلی کاپٹر کیسے تباہ ہوا:
پاک فوج کا ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر 6 اہلکاروں سمیت بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں سیلاب زدگان کی امدادی کارروائیوں میں مصروف تھا۔
گزشتہ روز ائیر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد لاپتہ ہو گیا تھا۔
مبینہ طور پر یہ حادثہ بلوچستان میں وندر اور سسی پنوں کے مزار کے درمیان پیش آیا جس میں کور کمانڈر سمیت تمام 6 اہلکار شہید ہو گئے۔
شہید ہونے والوں میں بریگیڈیئر امجد حنیف، بریگیڈیئر محمد خالد، میجر سعید احمد، میجر طلحہ منان اور نائیک مدثر فیاض شامل ہیں۔
ہیلی کاپٹر کو حادثہ خراب موسم کی وجہ سے پیش آیا۔
بلوچستان پولیس نے کور کمانڈر کوئٹہ کے ہیلی کاپٹر کا ملبہ ملنے کی تصدیق کی ہے جو سسی پنوں کے مزار کے قریب سے ملا ہے۔