فلسطینی صدر کی غزہ جانے کی تیاریاں، محمود عباس تباہ حال شہر کیسے جائیں گے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو ٹائمز آف اسرائیل

فلسطینی خبر رساں ایجنسی ’’وفا‘‘ نے کل اتوار کو اعلان کیا ہے کہ فلسطینی قیادت نے صدر محمود عباس اور دیگر رہنماؤں کے غزہ کی پٹی کے دورے کی تیاری اور انتظامات کے لیے دنیا بھر میں اپنی نقل و حرکت اور رابطے شروع کر دیے ہیں۔

خبر ایجنسی کے مطابق کہ محمود عباس اور فلسطینی قیادت کے ارکان کے غزہ کے دورے کا مقصد فلسطینی عوام کے ساتھ رہنا ہے جو وہاں نسل کشی کی جنگ کا شکار ہیں اور اس بات کی تصدیق کرنا ہے کہ ریاست فلسطین اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کا دائرہ اختیار اور ذمہ داری فلسطینی ریاست کی پوری سرزمین میں ہے۔

محمود عباس نے ترک پارلیمنٹ کے سامنے ایک تقریر میں اعلان کیا تھا کہ وہ فلسطینی قیادت کے متعدد ارکان کے ساتھ غزہ کی پٹی جائیں گے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ وہاں اپنی آمد کو یقینی بنائیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحادث ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے اس دورے کے راز، اس کے وقت اور مقاصد کے بارے میں فلسطینی صدر کے مشیر اور فلسطین کے چیف جسٹس ڈاکٹر محمود الحبش نے کہا کہ فلسطینی قیادت کو فلسطینی سرزمین کے ایک ایک انچ میں موجود رہنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کے خلاف جارحیت کی وجہ سے اب مشکل اور غیر معمولی حالات ہیں۔ اس سے قبل تقسیم کے حالات نے فلسطینی قیادت کو غزہ کی پٹی میں موجود ہونے سے روک دیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ حال ہی میں اسرائیل کی طرف سے فلسطینی عوام کے خلاف چھیڑی جانے والی تباہی کی جنگ کے باعث اور امن، سلامتی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے عالمی برادری کی جانب سے اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکامی کی وجہ سے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی وجہ سے فلسطینی صدر کو یہ اعلان کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے ان تمام عرب ملکوں کو دعوت دی ہے جو اس دورے میں شرکت کرنا چاہتے ہیں۔

ابو مازن کے مشیر نے کہا کہ اس دورے کا مقصد غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ یک جہتی اور ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہے جو جارحیت کو روکنے اور قتل و غارت کی جنگ کو ختم کرنے کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس اقدام کا مقصد بھی غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے اور اس تمام غیر معمولی صورتحال جس سے مسئلہ فلسطین گزر رہا ہے میں بھی فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کی ریاست 2007 سے جس غیر معمولی صورتحال سے گزر رہی ہے ۔ بغاوت اور دھڑوں بالخصوص حماس تحریک اور پی ایل او کے درمیان تنازعات کی وجہ سے غزہ کی پٹی کو باقی فلسطینیوں سے الگ ہونے کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان اختلافات کو ختم کرنے اور تقسیم کو اتحاد میں تبدیل کرنے کا یہ بہترین وقت ہے۔ اس لیے یہ دورہ قومی فرض اور ذمہ داری کے دائرے میں ایک قدم ہے۔

ڈاکٹر محمود الحبش نے وضاحت کی کہ صدر ابو مازن نے ترک پارلیمنٹ کے سامنے اپنی تقریر میں واضح اور براہ راست کہا تھا کہ انہوں نے غزہ کی پٹی جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اقدام کے لیے اور ان کی غزہ میں کامیابی اور محفوظ رسائی کے کام کریں۔ محمود عباس کا مقصد جنگ کو ختم کرنا، تقسیم کو ختم کرنا اور فلسطینی عوام کو جارحیت سے بچانا اور ایک نئے مرحلے کا افتتاح کرنا ہے۔

Related Posts