کراچی کی مقامی عدالت نے اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کی المناک موت کے معاملے پر پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے یہ فیصلہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (جنوبی) کی سربراہی میں ایک درخواست پر سماعت کے دوران سنایا۔
وکیل شاہ زیب سہیل نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ حمیرا اصغر کی پراسرار موت فطری وجوہات کے بجائے قتل کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ پولیس واقعے کی ایف آئی آر درج کر کے شفاف تفتیش کرے۔
عدالت نے سماعت کے دوران پولیس کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 کے تحت مقدمہ درج کرنے اور مقتولہ کے اہلخانہ کے بیانات ریکارڈ کرنے کی ہدایت دی۔
پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حمیرا اصغر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ مکمل ہو چکی ہے جبکہ ان کے کمرے اور واش روم سے خون کے نمونے بھی حاصل کیے گئے ہیں۔
حتمی فرانزک رپورٹ ابھی تک موصول نہیں ہوئی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ رپورٹ آنے کے بعد مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
وکیل شاہ زیب سہیل نے عدالت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ حمیرا اصغر کا موبائل فون فروری 2025 تک فعال رہا حالانکہ ان کی موت 7 اکتوبر 2024 کو رپورٹ کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ موت کے بعد ان کا واٹس ایپ ڈسپلے پکچر بھی ڈیلیٹ کیا گیا جو معاملے کو مزید مشکوک بناتا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ اداکارہ کے قریبی رشتہ داروں اور ان میک اپ آرٹسٹ کو شاملِ تفتیش کیا جائے جن سے وہ آخری بار رابطے میں تھیں۔ پولیس نے مؤقف اپنایا کہ اگر ٹھوس شواہد سامنے آئے تو باضابطہ طور پر قتل کا مقدمہ درج کر لیا جائے گا۔
یاد رہے کہ حمیرا اصغر کی لاش ان کے فلیٹ سے دس ماہ بعد ملی تھی، جس نے شوبز انڈسٹری اور عوامی حلقوں میں گہرے سوالات کو جنم دیا۔ یہ افسوسناک واقعہ تاحال کئی پہلوؤں سے معمہ بنا ہوا ہے اور تحقیقات کے نتائج کا شدت سے انتظار کیا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








