انسانی حقوق کی پاسداری پر نگاہ رکھنے والی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں حملوں کے دوران بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں ہیومن رائٹس واچ کے ڈائریکٹر عمر شاکر کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی صیہونی حکومت نے غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کو خوراک اور پانی سے محروم کردیا اور جان بوجھ کر غزہ کو پہنچنے والی امداد میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
[visual-link-preview encoded=”eyJ0eXBlIjoiaW50ZXJuYWwiLCJwb3N0IjoxODM4MDYsInBvc3RfbGFiZWwiOiJQb3N0IDE4MzgwNiAtINiv24zaqdq+2KbbkiDZgdmE2LPYt9uM2YbbjCDYrNin2YbYqNin2LIg2qnbjNiz25Ig2KfYs9ix2KfYptuM2YTbjCDZuduM2YbaqdmI2rog2qnbkiDZvtix2K7ahtuSINin2pHYpyDYsduB25Ig24HbjNq6IiwidXJsIjoiIiwiaW1hZ2VfaWQiOjE4MzgxMCwiaW1hZ2VfdXJsIjoiaHR0cHM6Ly9tbW5ld3MudHYvdXJkdS93cC1jb250ZW50L3VwbG9hZHMvMjAyMy8xMi9pc3JhZWwtMi0zMDB4MjUwLmpwZyIsInRpdGxlIjoi2K/bjNqp2r7YptuSINmB2YTYs9i324zZhtuMINis2KfZhtio2KfYsiDaqduM2LPbkiDYp9iz2LHYp9im24zZhNuMINm524zZhtqp2YjauiDaqduSINm+2LHYrtqG25Ig2KfakdinINix24HbkiDbgduM2roiLCJzdW1tYXJ5Ijoi2LrYstuBINin2LPYsdin2KbbjNmE24wg2YHZiNisINqp24zZhNim25Ig2KfbjNiz24wg2K/ZhNiv2YQg2KjZhtiq24wg2KzYp9ix24HbjCDbgduS2Iwg2KzZiCDbgdixINin2bnavtiq25Ig2YLYr9mFINqp2Ygg2KfZvtmG25Ig2KfZhtiv2LEg2qnavtuM2YbahiDZhNuM2KrbjCDbgduS25QiLCJ0ZW1wbGF0ZSI6InNwb3RsaWdodCJ9″]
بیان میں ڈائریکٹر ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے غزہ کو خوراک فراہم کرنے والی بیکریاں مسمار کردیں۔ اسرائیلی فوج اناج کی چکیوں کو بھی جان بوجھ کر نشانہ بنا رہی ہے جبکہ اسرائیلی حملوں سے زرعی علاقہ بھی تباہ کیا جارہا ہے۔
آج سے کم و بیش ڈھائی ماہ قبل شروع ہونے والی اسرائیل حماس جنگ کے نتیجے میں 19 ہزار 400سے زائد فلسطینی شہید ہوئے اور 50 ہزار کے لگ بھگ زخمی ہیں جن میں ہزاروں بچے اور خواتین شامل ہیں۔ ہزاروں فلسطینی تباہ شدہ عمارات کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کے فلسطینیوں پر زمین تنگ کر رکھی ہے، غزہ کے رہائشی افراد کیلئے خوراک، پانی اور بجلی کی ترسیل بند کردی گئی۔ حماس کی جانب سے اسرائیلی فورسز کے حملوں کے جواب میں شدید جھڑپیں اور توپوں کی تباہی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








