کراچی کے علاقے میمن گوٹھ میں ایک افسوسناک اور چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں ایک نجی اسپتال پر الزام ہے کہ اس نے زچگی کے اخراجات ادا نہ کرنے پر نومولود بچے کو ماں سے چھین کر بیچ دیا۔
پولیس کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے بچے کو اس وقت تحویل میں لے لیا جب والدین بل ادا کرنے سے قاصر تھے اور بعد میں بچے کو فروخت کر دیا۔
ایس ایس پی ملیر عبد الخالق پیرزادہ نے بتایا کہ بچے کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے نومولود کو بازیاب کرا لیا ہے۔
تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ اسپتال کی ڈاکٹر زہرہ اور عملے کی ایک خاتون شمع بلوچ اس گھناؤنے کام میں ملوث ہیں۔ پولیس کے مطابق شمع بلوچ نے ڈاکٹر زہرہ کے ساتھ مل کر بچے کو پنجاب منتقل کرکے فروخت کیا۔
ایف آئی آر کے مطابق ڈاکٹر زہرہ نے بچے کی ماں سے کہا تھا کہ اگر وہ اسپتال کا بل ادا نہیں کر سکتی تو وہ ایک ایسی خاتون کو جانتی ہیں جو غریبوں کی مدد کرتی ہے اور ان کے بچوں کی پرورش کا ذمہ لیتی ہے۔ اسی بہانے شمع بلوچ نے اسپتال کے اخراجات ادا کیے اور بچے کو حاصل کرنے کے بعد غائب ہو گئی۔
پولیس نے نجی اسپتال کو سیل کر دیا ہے جبکہ ڈاکٹر زہرہ اور شمع بلوچ فرار ہیں۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور واقعے کی جامع تفتیش جاری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








