مریم نواز کی جانب سے کرسمس گفٹ کے نام پر تذلیل، مسیحی شہری نے حقیقت بے نقاب کردی، دیکھئے ویڈیو

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو اسکرین گریب

پنجاب کے ایک مسیحی شہری نے الزام عائد کیا ہے کہ مبینہ طور پر پنجاب حکومت کی جانب سے مسیحی برادری کے افراد کو کرسمس گفٹ کے نام پر لنڈے کے کپڑے دے کر ان کی تذلیل کی گئی ہے۔

چنیوٹ ضلع کی تحصیل لالیاں کے رہائشی عرفان مسیح نے وائرل ویڈیو میں بتایا کہ انہیں اور برادری کے دیگر افراد کو ڈپٹی کمشنر چنیوٹ نے بلایا اور بتایا گیا کہ یہ تحائف پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے تقسیم کیے جا رہے ہیں۔

تاہم عرفان مسیح کے مطابق تحفے کے پیکٹس میں صرف پرانے اور استعمال شدہ کپڑے موجود تھے۔

عرفان مسیح نے صحافی احسن وحید کی جانب سے ایکس (ٹوئٹر) پر شیئر کی گئی ویڈیو میں کہا:
“ہم مسیحی ہیں اور ہم بھی انسان ہیں۔ یہ درست ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ غریب ہیں اور صفائی کے کام کرتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں کرسمس کے تحفے کے طور پر استعمال شدہ کپڑے دیے جائیں۔ ایسی چیزیں تو ہم خود بھی مقامی بازاروں سے خرید سکتے ہیں۔”

انہوں نے اس اقدام کو توہین آمیز قرار دیا اور کہا کہ اس سے مسیحی برادری کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے۔

یہ الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب چند روز قبل وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف نے کیتھیڈرل چرچ میں منعقدہ کرسمس تقریب میں بطورِ خاص مہمان شرکت کی تھی، جہاں انہوں نے مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد دی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے صوبائی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

اس تقریب کے دوران وزیرِ اعلیٰ نے اقلیتی کارڈز اور کرسمس گرانٹ کے چیکس بھی تقسیم کیے اور اعلان کیا کہ اقلیتی کارڈ پروگرام کو توسیع دے کر ایک لاکھ تک مستحق افراد کو شامل کیا جائے گا۔

تاحال پنجاب حکومت یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے استعمال شدہ کپڑے تقسیم کیے جانے کے الزامات پر کوئی سرکاری مؤقف سامنے نہیں آیا۔

Related Posts