افغانستان میں شدید غربت اور تباہ کن بھوک کے باعث لوگ اپنے بچوں کو بیچنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ افغان جریدے ہشتِ صبح ڈیلی کے مطابق ملک بھر میں طویل عرصے کی بے روزگاری، بار بار آنے والی خشک سالی اور گہرے معاشی بحران نے لوگوں کو انتہائی مایوسی کی حالت میں پہنچا دیا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں نصف آبادی بھوک کا شکار ہے اور سردیوں کے موسم میں یہ بحران مزید سنگین ہوگیا ہے۔
افغان صوبے غور میں ایک بزرگ شخص شیر علی نے اپنی کم عمر بیٹی کو بھوک سے بچانے کے لیے بیچنے کی کوشش کی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں وہ کہتے ہیں کہ بھوک نے انہیں کوئی چارہ نہیں چھوڑا اور وہ ایک بچے کو بیچ کر باقی دو بچوں کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے گھر میں سات افراد ہیں جو مسلسل بھوک میں مبتلا ہیں اور کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ مقامی لوگوں نے مداخلت کی اور بچی کو والد کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اسے بیچ نہ سکے۔ ایک مقامی شہری نے منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ تیز ہوا چل رہی تھی، بچی رو رہی تھی اور بزرگ شخص غم میں ڈوبا ہوا تھا۔
ہرات صوبے میں ایک نوجوان ساحل نے بتایا کہ ان کے والد روزانہ سخت محنت کرتے ہیں مگر گھر کرایے پر ہے اور وہ بھوک سے بچنے کے لیے بس اتنا ہی کما پاتے ہیں۔ ایک اور رہائشی نے کہا کہ کام نہیں ملتا، عمر زیادہ ہو گئی ہے اور بیٹا بھی نہیں جو مدد کر سکے۔ لوگ دن بھر روزگار کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں مگر کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
فاریاب صوبے میں ایک خاتون فرِیبا (فرضی نام) نے اپنے 12 افراد کے گھرانے کی حالت بیان کی کہ بے روزگاری نے خاندان میں تناؤ پیدا کر دیا ہے۔ اب لفظی جھگڑے عام ہو گئے ہیں اور غربت کی وجہ سے بہن بھائی ایک دوسرے پر صبر نہیں کر پاتے۔ باہر نکلنے پر سینکڑوں نوجوان بے روزگار نظر آتے ہیں جو کسی بھی کام کی امید میں دوڑتے ہیں۔ ایک موقع پر ایک شخص آیا تو دس نوجوان اس کی طرف لپکے۔ غربت نے نوجوانوں کو منشیات اور جرائم کی طرف بھی دھکیلا ہے۔
یہ بحران خشک سالی کی وجہ سے کسانوں کی تباہی، ایران سے واپس آنے والے مزدوروں کی بڑھتی تعداد اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے بجٹ میں کٹوتیوں سے مزید سنگین ہو گیا ہے۔
ڈبلیو ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، 17.4 ملین افراد یعنی ملک کی تقریباً نصف آبادی شدید بھوک کا شکار ہے۔ اگلے سال 4.9 ملین خواتین اور بچوں کو غذائی قلت کے علاج کی ضرورت ہوگی جبکہ فنڈنگ صرف 12 فیصد ہی حاصل ہوسکی ہے۔ کچھ علاقوں میں غذائی مراکز کے عملے کو برخاست کر دیا گیا ہے جس سے بچوں اور حاملہ خواتین کی صحت کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
یہ صورتحال انسانی بحران کی انتہا کو ظاہر کرتی ہے جہاں لوگ زندہ رہنے کے لیے اپنے بچوں کو بیچنے جیسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








