سولر پینل صارفین پر بجلی گرانے کا پروگرام؟ 300 یونٹ والے بلز میں 8 ہزار روپے اضافہ متوقع

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وفاقی حکومت نے پاکستان میں سولر توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کو منظم کرنے اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے مالی مسائل کو حل کرنے کے لیے نیٹ میٹرنگ سسٹم میں اہم تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس اقدام کے تحت موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام کو ختم کرکے ایک نئی نیٹ بلنگ پالیسی متعارف کرائی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں گھریلو اور دیگر صارفین کے ماہانہ بجلی کے بلوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

موجودہ نظام میں صارفین جو اضافی بجلی سولر پینلز کے ذریعے پیدا کرتے ہیں اور اسے گرڈ میں بھیجتے ہیں اس کے برابر کے یونٹس اپنے بل سے ایڈجسٹ کر لیتے ہیں۔ اس وجہ سے اکثر صارفین کا بل صفر یا بہت کم رہ جاتا ہے تاہم نئی نیٹ بلنگ پالیسی کے تحت یہ طریقہ کار بدل جائے گا۔

اب صارف گرڈ سے حاصل کردہ ہر یونٹ کی بجلی کے لیے پورا قومی ٹیرف ادا کرے گا جو عام طور پر 50 سے 60 روپے فی یونٹ کے درمیان ہوتا ہے جبکہ گرڈ کو بھیجی گئی اضافی بجلی کا معاوضہ بہت کم ریٹ پر دیا جائے گا، جو تقریباً 10 سے 15 روپے فی یونٹ (کچھ رپورٹس کے مطابق تقریباً 11 روپے) ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے سولر صارفین کی ماہانہ بچت پر براہ راست اثر پڑے گا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی صارف ماہانہ 300 یونٹ بجلی سولر سے پیدا کرتا ہے اور اتنے ہی یونٹ استعمال کرتا ہے تو موجودہ نظام میں اس کا بل تقریباً صفر رہتا تھا تاہم نئے نظام میں گرڈ سے لی گئی بجلی پر پورا بل اور گرڈ کو دی گئی بجلی پر کم کریڈٹ کی وجہ سے بل 8,000 سے 10,000 روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

حکومت اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ نیٹ میٹرنگ کی وجہ سے گرڈ کی دیکھ بھال اور انفراسٹرکچر کے اخراجات بڑھ گئے ہیں جس سے قومی خزانے پر بوجھ پڑ رہا ہے۔ اس لیے نئی پالیسی گرڈ کے استحکام اور مالیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر قرار دی گئی ہے۔

Related Posts