پاکستان کی جنگ بندی کوششوں کے دوران ایران کی جانب سے سعودی عرب کے ایک اہم اقتصادی مرکز پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد خطے کی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت پر پاکستان نے پہلی مرتبہ کھل کر ایران کی شدید مذمت کی ہے، جسے سفارتی سطح پر ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
سرکاری اور دفاعی حلقوں کے مطابق یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی کے لیے سرگرم سفارتی کوششیں کر رہا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام نے نہ صرف امن کی کوششوں کو دھچکا پہنچایا بلکہ خطے میں ایک نئی غیر یقینی صورتحال کو بھی جنم دیا ہے۔
دفاعی تجزیہ کار اور پاک فوج کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل حارث نواز نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی امن کوششوں کے دوران اس نوعیت کے حملے انتہائی افسوسناک ہیں۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں دراصل جنگ بندی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہیں، جن سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے حالات کا فائدہ اسرائیل سمیت ان قوتوں کو ہو سکتا ہے جو خطے میں امن کے قیام کے مخالف ہیں۔ ان کے بقول اگر اس نوعیت کے حملے جاری رہے تو پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر کشیدگی کو کم نہ کیا گیا تو یہ تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








