حسان نیازی کیس میں نیا رخ، ایک اور جج نے سماعت سے انکار کردیا، وجوہات کیا ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

حسان نیازی
حسان نیازی، فائل فوٹو

لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے ایک رکن نے حسان نیازی کی جانب سے فوجی عدالت میں اپنے ٹرائل کے خلاف دائر اپیل کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا ہے۔

جسٹس جاوید ظفر اس کیس سے الگ ہو گئے، جس کے بعد سماعت اب نئی تشکیل کے لیے چھوڑ دی گئی۔ حسان نیازی نے اپنی فوجی عدالت میں ہونے والی سماعت کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ اعلیٰ عدالت کے ججز نے اس کیس کی سماعت سے معذرت کی ہو۔

دسمبر 2025 میں لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس سلطان تنویر احمد اور جسٹس ملک اویس خالد شامل تھے، بھی اس کیس سے الگ ہو گئے تھے۔ انہوں نے قرار دیا تھا کہ جسٹس احمد اس اپیل کو بطور سنگل بینچ پہلے ہی سن چکے ہیں، اس لیے دوبارہ سماعت مناسب نہیں ہوگی۔ بعد ازاں اپیل کو چیف جسٹس کے پاس بھیج دیا گیا تاکہ اسے کسی مناسب بینچ کے سامنے مقرر کیا جا سکے۔

اس سے قبل 6 نومبر کو جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس طارق ندیم پر مشتمل بینچ نے بھی حسان نیازی کی اپیل سننے سے انکار کر دیا تھا۔

اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 9 مئی کے مقدمے میں گرفتاری کے بعد حسان نیازی کو کسی سول عدالت میں پیش نہیں کیا گیا بلکہ سرور روڈ پولیس نے انہیں بغیر کسی عدالتی حکم کے فوج کے حوالے کر دیا۔

حسان نیازی کو دسمبر 2023 میں جناح ہاؤس حملہ کیس میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

Related Posts