کوئی غفلت ہو جائے تو گنجائش دینی چاہیے! مولانا طارق جمیل کے فرزند کی وائرل ویڈیو پر وضاحت

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

معروف مذہبنی اسکالر مولانا طارق جمیل سے متعلق ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں انہیں ایک بچے سے مصافحہ نہ کرنے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعے کے بعد اب ان کے صاحبزادے نے سامنے آ کر اس معاملے کی وضاحت پیش کی ہے اور تفصیل سے اپنا موقف بیان کیا ہے۔

مولانا طارق جمیل کے بیٹے یوسف جمیل نے انسٹاگرام پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ مولانا کی ایک ویڈیو گردش کر رہی ہے جس میں وہ ایک بچے سے ہاتھ نہیں ملاتے جس پر کافی ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنقید کرنا ہر شخص کا حق ہے لیکن ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جس شخصیت پر بات کی جا رہی ہو اس کا موقف اور حالات بھی سنے جائیں۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Yousaf Jamil (@yousafjamilmtj)

انہوں نے کہا کہ اگرچہ مولانا کو اس موقع پر بچے سے مصافحہ کر لینا چاہیے تھا اور اس میں کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن اس فیصلے کے پیچھے کچھ حالات کو سمجھنا ضروری ہے۔

یوسف جمیل نے کہا کہ جب کوئی انسان مسلسل ایک ہی عمل بار بار کرتا رہے تو اس میں کبھی نہ کبھی تھکن اور ذہنی اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے چاہے وہ کتنا ہی بڑا عالم یا شخصیت کیوں نہ ہو۔

انہوں نے ناقدین سے درخواست کی کہ اگر ممکن ہو تو وہ ایک دن مولانا کے ساتھ گزار کر دیکھیں تاکہ انہیں اندازہ ہو سکے کہ ایک بڑی دینی شخصیت پر روزانہ کتنے زیادہ سماجی اور ملاقاتوں کے دباؤ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کل ملاقات صرف سلام دعا تک محدود نہیں رہی بلکہ سیلفی اور تصاویر کا بھی سلسلہ ہوتا ہے جسے وہ مسلسل نبھاتے ہیں۔

مولانا طارق جمیل کے لوگوں سے برتاؤ کے حوالے سے یوسف جمیل نے کہا کہ وہ ہمیشہ لوگوں کی محبت کا احترام کرتے ہیں اور کسی کی دل آزاری نہیں چاہتے لیکن انسان ہونے کے ناطے ہر کسی سے کبھی نہ کبھی معمولی کوتاہی ہو سکتی ہے۔

انہوں نے ویڈیو کے پس منظر کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ رمضان المبارک کی ایک رات کا ہے جب ان کے مدرسے میں ختمِ قرآن کی محفل تھی اور مولانا وہاں تشریف لائے تھے۔ جس بچے کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ کوئی اجنبی نہیں بلکہ اسی تعلیمی ماحول کا حصہ ہے اور وہاں زیرِ تعلیم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مولانا دن بھر روزے کی حالت میں رہتے ہیں، عبادات اور مصروفیات کے ساتھ ساتھ تراویح بھی ادا کرتے ہیں اور اکثر دیر سے آرام کرتے ہیں۔ اس مخصوص دن ان کا معمول بھی معمول سے مختلف تھا اور وہ مسلسل مصروف رہے۔

مولانا طارق جمیل ایک بار پھر تنقید کی زد میں! سوشل میڈیا پر نئی بحث؛ معاملہ کیا ہے

یوسف جمیل نے کہا کہ اس عمر اور اس قدر مصروف دن کے بعد اگر کسی لمحے میں کسی سے معمولی غفلت ہو جائے تو اسے سمجھنے کی گنجائش ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تنقید ضرور کی جائے مگر ساتھ ساتھ حالات اور انسان کی کیفیت کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

Related Posts