معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کو ایک بار پھر سے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جب ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں وہ ایک مسجد کے دورے کے دوران ہاتھ ملانے کی کوشش کرنے والے بچے کو جھڑک دیتے ہیں جبکہ اس کے ساتھ موجود سیکورٹی گارڈ بھی طارق جمیل سے ہاتھ ملانے کے خواہش مند افراد کو پیچھے دھکیلتے نظر آتے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر وائرل ویڈیو پر صارفین نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مولانا طارق جمیل کی شخصیت اور طرزِ عمل میں تضاد پایا جاتا ہے اور ان کے مطابق سوشل میڈیا نے ایسی چیزوں کو نمایاں کر دیا ہے جو پہلے عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتی تھیں۔
ایکس پر متحرک ایڈوکیٹ صاحبہ رانا نے کہا کہ طارق جمیل ایک انتہائی مغرور شخصیت ہیں اگر سوشل میڈیا نہ ہوتا تو شاید ان کی حقیقت کبھی سامنے نہ آتی۔ آخری زمانے کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور جاہل لوگ عالم بن بیٹھیں گے۔ آج ایک ایک کرکے حقیقی علما دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں جبکہ طارق جمیل جیسے قصہ گو افراد کو عالم دین سمجھا جانے لگا ہے۔
طارق جمیل انتہائی متکبر شخص ہے اگر سوشل میڈیا نہ ہوتا تو یہ کبھی بینقاب نہ ہوتا ۔ آخری زمانے میں علم اٹھائے جانے اور جاہلوں کے عالم بننے کا زکر بھی ہے۔ آج علمائے دین ایک ایک کرکے دنیا سے جارہے ہیں اور طارق جمیل جیسے قصے خوان عالم بن گئے ہیںpic.twitter.com/ZAdQufBER0
— Adv Sahiba Rana (@AdvSahibaRana) May 9, 2026
سماجی کارکن خواجہ یاسین عثمانی نے کہا کہ ایلیٹ کلاس کے مولوی کو غریب سے ہاتھ ملانا بھی گوارا نہیں، مدرسے کا ایک طالبِ علم ادب سے ہاتھ ملانے آگے بڑھا تو طارق جمیل نے اس سے ہاتھ ملانا بھی گوارا نہ کیا لیکن مہک ملک کو جپھیاں ڈالنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی۔ امیروں کی محفلوں میں جاتا ہے انہیں گلے لگاتا ہے اور درس سادگی کا دیتا ہے۔
طارق جمیل کو مہک ملک کو جپھیاں ڈالنے میں کوئی جھجک نہ ہوئی، مگر جب ایک مدرسے کا طالبِ علم ادب سے ہاتھ ملانے آگے بڑھا تو اُس سے ہاتھ ملانا بھی گوارا نہ کیا۔ pic.twitter.com/HH3ul3J7kz
— Khawaja Yaseen Usmani (@YaseenUSM_Offl) May 9, 2026
ایک صارف نے کہا کہ ایک وقت تھا بہت عقیدت تھی مولانا طارق جمیل سے لیکن اب تو اسکو دیکھ کر کوفت آتی ہے اتنا گھٹیا آدمی اس وجہ سے کہنا پڑتا ہے انجنیئر محمّد علی مرزا ان سے بہتر ہے۔
ایک وقت تھا بہت عقیدت تھی مولانا طارق جمیل سے لیکن اب تو اسکو دیکھ کر کوفت آتی ہے اتنا گھٹیا آدمی اس وجہ سے کہنا پڑتا ہے انجنیئر محمّد علی مرزا ان سے بہتر ہے pic.twitter.com/ylHzz8ZBQy
— Muhammad Umair (@P11943PakArmy) May 9, 2026
ایک صارف نے لکھا کہ مولانا طارق جمیل کو ایک تقریب میں مدعو کیا گیا جہاں مولانا صاحب زاروقطار روئے، آنکھیں تر ہوگئیں، موضوع تھا سادگی فرمایا کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم ہمیشہ چٹائی پر بیٹھتے تھے، بالکل سادہ گزاری، تقریب ختم ہوتے مولانا صاحب کروڑوں روپے کی وی 8 میں بیٹھ کر چلے گئے۔
مولانا طارق جمیل رحمتہ اللہ علیہ کو ایک تقریب میں مدعو کیا گیا جہاں مولانا صاحب زاروقطار روئے، آنکھیں تر ہوگئیں، موضوع تھا سادگی فرمایا کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم ہمیشہ چٹائی پر بیٹھتے تھے، بالکل سادہ گزاری،تقریب ختم ہوتے مولانا صاحب ڈیڑھ کروڑ کی V8 میں بیٹھ کر زاروقطار چلے گئے 😊 pic.twitter.com/B2qEJ92Ku3
— Ather Salem® (@AthSal01) May 9, 2026
بعض صارفین نے موجودہ دور کو اس روایت سے بھی جوڑتے ہیں جس میں علم کے کم ہونے اور غیر سنجیدہ افراد کے نمایاں ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ان ناقدین کے مطابق آج روایتی دینی شخصیات رفتہ رفتہ دنیا سے رخصت ہو رہی ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر مقبول مقررین زیادہ توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے تبصروں میں یہ موقف بھی سامنے آیا کہ مذہبی رہنماؤں کو اپنی گفتگو اور عملی زندگی میں یکسانیت رکھنی چاہیے۔ دوسری جانب مولانا طارق جمیل کے حامی ان اعتراضات کو تنقید برائے تنقید قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مختصر ویڈیوز یا تصاویر کی بنیاد پر کسی شخصیت کے کردار یا نیت کا فیصلہ کرنا درست نہیں۔
سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کے بعد مولانا طارق جمیل کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل سے ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں وہ بچوں سے مصافحہ کرتے نظر آرہے ہیں۔
The way he interacts with the little ones is entirely filled with love and compassion. Beautiful moments! 🌹 pic.twitter.com/Pi6F6PILql
— Tariq Jamil (@TariqJamilOFCL) May 9, 2026
طارق جمیل کے ٹوئٹر ہینڈل سے کہا گیا کہ وہ جس محبت اور شفقت کے ساتھ بچوں سے پیش آتے ہیں وہ دل کو چھو لینے والا انداز ہے۔ واقعی خوبصورت لمحات ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








