ڈپریشن ایسا طبی عارضہ ہے جس سے ایک تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں 28 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہیں۔
ڈپریشن کی متعدد اقسام ہیں اور یہ مرض ہر فرد کو مختلف انداز سے متاثر کرسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی علامات ایک سے دوسرے فرد میں مختلف ہوسکتی ہیں۔
ڈپریشن کی چند عام علامات ایسی ہوتی ہیں جو ڈپریشن کے امراض میں زیادہ نمایاں ہوتی ہیں۔ اگر ان علامات کا تسلسل 2 ہفتے یا اس سے زائد وقت تک برقرار رہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
اداسی یا خالی پن کا احساس
مزاج میں مسلسل تبدیلیاں ڈپریشن کی چند عام ترین علامات میں سے ایک ہے۔
ڈپریشن کے شکار افراد اکثر اداسی محسوس کرتا ہے جس کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔
اسی طرح انہیں خالی پن یا خوشی محسوس نہ کرنے جیسے احساس کا سامنا بھی ہوتا ہے۔
بے بسی یا مایوسی کا احساس
ڈپریشن کے شکار افراد مایوسی محسوس کرتے ہیں کیونکہ انہیں زندگی میں کوئی امید نظر نہیں آتی۔
اسی طرح ان میں بے بسی کا احساس بھی موجود ہوتا ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ کوئی ان کی مدد نہیں کرسکتا۔
ناقدری کا احساس
ڈپریشن کے شکار افراد کو ناقدری کا احساس ہوتا ہے یا انہیں لگتا ہے کہ زندگی بے معنی ہے۔
اکثر انہیں یہ بھی لگتا ہے کہ وہ دوسروں جیسے گھر والوں یا دنیا کے لیے بوجھ سے کم نہیں۔
بہت زیادہ احساس جرم
ڈپریشن کے شکار افراد کو اکثر کسی وجہ کے بغیر ہی احساس جرم ہوتا ہے۔
درحقیقت وہ اپنی بہت زیادہ توانائی احساس جرم میں ضائع کر دیتے ہیں۔
پسندیدہ مشاغل میں دلچسپی ختم ہو جانا
ڈپریشن کے شکار افراد کی ان مشاغل میں دلچسپی ختم ہو جاتی ہے جو انہیں بہت زیادہ پسند ہوتے ہیں۔
اگر آپ کو سوشل میڈیا ماضی کی طرح دلچسپ محسوس نہیں ہو رہا یا پسندیدہ کھیل بیزار کن محسوس ہونے لگا ہے تو یہ ڈپریشن کی علامت ہو سکتا ہے۔
غصہ اور چڑچڑا پن
ڈپریشن کے شکار اکثر دیگر افراد پر غصہ ہوتے ہیں اور بہت آسانی سے چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ڈپریشن کے مریضوں کی جانب اکثر اداسی کی بجائے غصے یا چڑچڑے پن کا اظہار بھی کیا جاتا ہے۔
بچوں اور نوجوانوں میں ڈپریشن کی اس علامت نظر آنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
تھکاوٹ اور توانائی میں کمی کا احساس
جسمانی توانائی میں کمی کی دیگر وجوہات بھی ہو سکتی ہیں جیسے بے خوابی۔
تاہم اگر کسی قسم کی جسمانی علامات کے بغیر بھی نقاہت کا تسلسل برقرار رہے تو یہ ڈپریشن کی جانب بڑھنے کی نشانی ہو سکتی ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ یہ ڈپریشن کے ابتدائی مراحل کی واضح ترین علامات میں سے ایک ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیشتر افراد میں جسمانی توانائی میں کمی اور نقاہت بہت زیادہ نمایاں ہوتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈپریشن سے نیند پر اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ تناؤ بڑھتا ہے، جس سے وہ ہارمونز متاثر ہوتے ہیں جو مزاج اور توانائی کو کنٹرول کرنے کے لیے اہم ہوتے ہیں۔
بے خوابی یا نیند کی کمی
نیند کے معمولات متاثر ہونا ڈپریشن کی بنیادی علامات میں سے ایک ہے۔
تحقیقی رپورٹس سے ثابت ہوا ہے کہ بے خوابی کا عارضہ ڈپریشن کا شکار بنانے والے عناصر میں سے ایک ہے۔
ڈپریشن کے شکار فرد کو سونے میں مشکلات کا سامنا ہوستکا ہے یا نیند کے دوران بار بار آنکھ کھل سکتی ہے۔
توجہ مرکوز کرنے، یاد رکھنے اور فیصلے کرنے میں مشکلات
ڈپریشن سے دماغی صلاحیتوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اس سے ذاتی یا پیشہ وارانہ معاملات میں توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اسی طرح ان کے لیے فیصلہ کرنا بھی مشکل ہوتا ہے، یہاں تک کہ روزمرہ کے کاموں کے بارے میں فیصلہ کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
ڈپریشن کے شکار افراد کے لیے چیزوں کو یاد رکھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔
کھانے کی اشتہا ختم ہو جاتی ہے
ڈپریشن کے شکار افراد کی کھانے کی خواہش ختم ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں جسمانی وزن میں کمی آتی ہے۔
درحقیقت انہیں کھانے میں کوئی دلچسپی نہیں رہتی اور زیادہ لمبے وقت تک کھانے کے بغیر رہتے ہیں۔
بسیار خوری اور جسمانی وزن میں اضافہ
دوسری جانب ڈپریشن کے کچھ مریض ایسے ہوتے ہیں جو معمول سے زیادہ کھانا کھانے لگتے ہیں۔
ان افراد کے لیے کھانا منفی احساسات سے نجات دلانے کا ذریعہ بن جاتا ہے یا کم از کم وہ ایسا سوچتے ہیں۔
ڈپریشن کے شکار افراد کو جسمانی سرگرمیوں میں دلچسپی نہیں ہوتی جس کے باعث جسمانی وزن بھی بڑھنے لگتا ہے۔
درد اور جسمانی علامات
ڈپریشن کے شکار افراد کو مختلف جسمانی علامات کا سامنا بھی ہوتا ہے جن میں سردرد، نظام ہاضمہ کے امراض اور بغیر کسی وجہ کے تکلیف قابل ذکر علامات ہیں۔
منفی خیالات سے نجات پانا مشکل
ڈپریشن کے شکار افراد مسلسل منفی چیزیں سوچتے رہتے ہیں اور ان کے لیے دماغ کو اس سے روکنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
ان افراد کے لیے اپنی فکرمندی کو کنٹرول کرنا بھی بہت مشکل ہوتا ہے۔
خودکشی کے خیالات
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ڈپریشن کے شکار افراد خودکشی کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں ان کی جانب سے خودکشی کی کوشش کا خطرہ بڑھتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








