کراچی سے چوری سامان مختلف کباڑیوں کو بیچے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، آئی جی سندھ غلام نبی میمن کا کہنا ہے کہ شہر میں موجود ہزار کباڑیوں میں سے 350 سے زائد چوری کے سامان کی خریدوفروخت میں ملوث ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اجلاس میں آئی جی سندھ نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسٹریٹ کرائمز کافی حد تک کنٹرول ہوچکے ہیں، پولیس مزید کارروائی کررہی ہے۔
اجلاس کے دوران آئی جی سندھ کی جانب سے پیش کی گئی امن و امان رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنوری میں اسٹریٹ کرائمز کے 254، فروری میں 252 جبکہ مارچ میں 245 کیسز روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ کیے گئے۔ چوری کو فروغ دینے والے کباڑیوں کے خلاف کارروائی ہورہی ہے۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ کراچی سے چوری سامان کے کاروبار میں ملوث 354 کباڑیوں کے خلاف 77 مقدمات درج کیے گئے، گرفتاریاں بھی ہوئیں اور چوری کا سامان بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے پولیس سربراہ کو گاڑیوں کی چوری روکنے کی ہدایت کی۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سکیورٹی منصوبے کیلئے صوبائی حکومت 1 اعشاریہ 4 ارب روپے جاری کرچکی ہے۔آئی جی سندھ نے کہا کہ کراچی میں موجود 48 ٹول پلازوں میں سے 40 پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہوچکے، باقی پر تنصیب کا کام جاری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








