انجینئر مرزا کیس، عدالت نے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے مسترد کردی

تازہ ترین

تازہ ترین

انجینئر علی مرزا ایک متنازع اسکالر
متنازع اسکالر انجینئر علی مرزا، فائل فوٹو

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسلامی نظریاتی کونسل کی 2025 میں انجینئر محمد علی مرزا کے خلاف دی گئی رائے کو “غیر قانونی، آئینی اختیار سے تجاوز اور کالعدم” قرار دے دیا ہے۔

یہ فیصلہ جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے لاہور ہائیکورٹ میں تبادلے سے قبل جاری کیا۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے آئینی دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ آئین پاکستان کی دفعات 229 اور 230 کے تحت کونسل کا کام صرف صدرِ مملکت، گورنرز اور قانون ساز اداروں کو مشورہ دینا ہے، نہ کہ کسی فوجداری مقدمے میں جرم یا بے گناہی کا تعین کرنا یا کسی قسم کی عدالتی یا تحقیقاتی حیثیت اختیار کرنا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ کونسل نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانب سے بھیجے گئے ایک توہین مذہب سے متعلق کیس پر رائے دے کر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔

جسٹس کیانی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کے جرم یا بے گناہی کا فیصلہ صرف عدالتیں کر سکتی ہیں، اور کونسل کی یہ رائے زیرِ سماعت فوجداری کیس میں مداخلت کے مترادف ہے، جو آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت منصفانہ ٹرائل کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

یہ کیس NCCIA کی جانب سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295-C اور PECA 2016 کے تحت کی جانے والی تحقیقات سے متعلق تھا، جس میں یوٹیوب پر دیے گئے ایک بیان کو بنیاد بنا کر کونسل سے رائے طلب کی گئی تھی اور بعد ازاں اسے تفتیشی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا تھا۔

Related Posts