راولپنڈی: میٹرو پولیٹن کارپوریشن حکام کی مبینہ ملی بھگت سے شہر بھر میں غیر قانونی خلاف ضابطہ اور بغیر نقشہ رہائشی اور کمرشل تعمیرات کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا۔
ایریا انسپکٹروں کی غیر قانونی تعمیرات کی مد میں عیدی مہم کے باعث قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے ،افسران اور اہلکار مالا مال جبکہ محکمہ کنگال ہو کر رہ گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مین مری روڈ اور اس کے اطراف غیر قانونی خلاف ضابطہ کمرشل تعمیرات دھڑلے سے جاری ہیں، مین مری روڈ مریڑ چوک سے فیض آباد کی جانب جاتے ہوئے بائیں ہاتھ پر وارث خان اسٹاپ سے پہلے پوٹھوہار ہوٹل کے مالکان نے پورے ہوٹل کی توڑ پھوڑ کر کے اس کی ازسر نو تعمیر شروع کر دی ہے۔
مالکان نے نہ تو ترمیم شدہ نقشہ جمع کروایا اور نہ ہی میٹرو پولیٹن کارپوریشن سے کسی بھی قسم کا این او سی لیا جبکہ متعلقہ ایریا انسپکٹر نے بھی ہوٹل مالکان سے مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض لاکھوں روپے لیکر پر اسرار خاموشی اختیار کر لی ہے جو کہ کمشنر راولپنڈی سمیت اعلیٰ حکام کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمشنر راولپنڈی ،چیف آفیسر میٹرو پولیٹن کارپوریشن علی بخاری اور دیگر متعلقہ افسران نے اگر غیر قانونی تعمیرات اور کرپٹ راشی افسران کے خلاف ایکشن نہ لیا تو قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا ہو گا۔