پاکستان کی تاجر برادری غیر متوازن پالیسیوں کے خلاف ہے،ایف پی سی سی آئی

تازہ ترین

تازہ ترین

جاپانی قونصل جنرل کی با ہمی تجا رت کے فروغ کیلئے ایف پی سی سی آئی کو تعاون کی یقین دہانی
جاپانی قونصل جنرل کی با ہمی تجا رت کے فروغ کیلئے ایف پی سی سی آئی کو تعاون کی یقین دہانی

کرا چی:ناصر خان قائم مقام صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاجر برادری غیر متوازن پالیسیوں کے خلاف ہے جو طویل عرصے سے ملک میں چل رہی ہیں؛جو اشرافیہ اور مفاد پرست گروہوں کے حق میں ہیں اور سرکاری محکموں / اداروں اور کاروباری برادری میں بدعنوانی کو فروغ دیتی ہے۔

ناصر خان نے چند مسائل و امور پر روشنی ڈالی جو بزنس کمیونٹی کے اندر پیدا ہوئے ہیں؛ مثال کے طور پر فنانس بل 22-2021 کے ذریعے فیڈرل ایکسائز رجیم سے سیلز ٹیکس رجیم میں شفٹ ہے۔

اس ترمیم سے قبل فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کا اطلاق خام مال درآمد کرتے ہو ئے 17 فیصد پرہو تا تھا، جو کہ فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے سیکشن 3 کے ساتھ پہلے شیڈول کے لئے ٹیبل 1 کے تحت لاگو تھا؛ جو کہ اب واپس لے لیا گیا ہے اور اب خام مال پر 17 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جا ئے گا۔

ناصر خان نے کہا کہ موجودہ تبدیلی کی وجہ سے فاٹا / پاٹا کے علاقوں میں واقع یونٹ تقریبا 25فیصد ٹیکس فوائد سے لطف اندوز ہوں گے؛ بشمول ویلیو ایڈیشن ٹیکس سے استثنیٰ۔ اس طرح کے مالی فوائد ناجائز استعمال کے لئے بہت بڑی ترغیب پیدا کر رہے ہیں اور ملک میں کاروبار کرنے کا ناہموار میدان پیدا کررہے ہیں۔

ناصر خان نے مزید کہا کہ اس سال ایف پی سی سی آئی نے معاشی نمو کا پروپوزل پیش کیا اور معیشت کے تمام طبقات کی توسیع اور بڑھی ہوئی شراکت داری کے ذریعے حکومت کی آمدنی، معاشی نمو اور قومی خوشحالی کو بہتر بنانے کے لئے مختلف ممکنہ اقدامات کی تجاویز پیش کیں۔ تاہم،معاشی نمو کے لئے ہماری تجاویز کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی ہے۔

اس کے بجائے بجٹ پالیسی میں مختلف پالیسی اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے جو انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر بجٹ کا سیکشن 203A، جو ایف بی آر کے صوابدیدی اختیارات کو طاقتور بناتا ہے اور توسیع دیتا ہے۔

اس کا نتیجہ بدعنوانی اور ہراسانی کے واقعات میں اضافے سے ہی نکلے گا۔ اگرچہ، سلیب متعارف کروانے کے نتیجے میں شق 203A میں ترمیم کی گئی ہے، لیکن گرفتاری اور قانونی چارہ جوئی کے اختیارات کا روباری برادری کے لیے ڈر اور حوصلہ شکنی کا ماحول پیدا کریں گے۔

ناصر خان نے موقف اختیار کیا کہ ایف بی آر کو جوابدہ بنانے کے لئے دفعات کو شامل کیا جانا چاہئے۔ اگر وہ کسی قسم کی بدعنوانی یا ٹیکس چوری ثابت نہیں کرسکے، جو ظاہر ہے کہ 95فیصد مقدمات عدالت عظمیٰ میں خارج کردیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کا ٹیکس نیٹ میں اپنا اندراج نہ کروانے کی بڑی وجہ ایف بی آر کی کرپشن اور ہراسانی کے واقعات ہیں۔

Related Posts