لانگ مارچ کا مقصد قوم کو جگانا ہے، عمران خان، استنبول دھماکے کی مذمت

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چئیرمین عمران خان نے کھاریاں میں آزادی مارچ سے خطاب میں ترکیہ میں ہونے والے دھماکے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ دھماکے میں لوگ جاں بحق اور زخمی ہوئے، میں ترکیہ کے صدر سے اظہار افسوس کرتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:

استنبول میں کرد دہشت گرد تنظیم کا خود کش حملہ، 4 افراد جاں بحق

عمران خان نے پاکستانی ٹیم کو فائنل میں پہنچنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ آج بہت عرصےبعد میں نے کرکٹ میچ دیکھا۔ چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ بابر اعظم دنیا کا بہترین بلے باز ہے۔

عمران خان نے کہا کہ مجھ پر حملے کی وجہ سے حقیقی آزادی مارچ سست ہوا، این آر او لینے کیلئے مجھے بلیک میل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ حقیقی آزادی مارچ اقتدار کیلئے نہیں کررہا، ملک میں صاف اور شفاف انتخابات ہمارا مطالبہ ہے۔

چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ چار لانگ مارچ ہوئیں، ہماری حکومت نے کسی لانگ مارچ کو نہیں روکا۔

ان کا کہنا تھا کہ 7 ماہ میں ملکی معیشت مزید نیچے چلی گئی ہے، موجودہ حکومت نے تین ماہ میں ریکارڈ قرض لیا ہے، ملک کی آمدنی کم اور قرض بڑھتا جارہا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ سات ماہ سےکہہ رہا ہوں کہ ان سے ملک نہیں سنبھلے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ لندن میں بیٹھا مفرور کہہ رہا ہے کہ الیکشن نہیں کروانے، خود کو بچانے کیلئے ملک کو تباہی کی جانب دھکیلا جارہا ہے، ملک کو دلدل سے نکالنے کیلئے فوری انتخابات ضروری ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ لندن فلیٹس کا انکشاف پاناما لیکس میں ہوا تھا۔ نوازشریف، شہبازشریف، اسحاق ڈار کے بچے باہر بیٹھے ہیں، کرپشن کرنے والے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کررہے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے آج تک ایک آدمی میرٹ پر نہیں رکھا، ان لوگوں کا مقصد صرف اپنی چوری کا پیسہ بچاناہے۔

ان کا کلہنا تھا کہ پوری قوم نے موجودہ حکومت کو مسترد کردیا ہے، پورے پاکستان کے لوگ راولپنڈی آرہے ہیں۔ ملکی قیادت کون کرےگا فیصلہ عوام کریں گے، لانگ مارچ کا مقصدقوم کو جگانا ہے۔

پی ٹی آئی چئیرمین نے کہا کہ موجودہ دورمیں دنیا میں پاکستان کا وقار کم ہوا ہے، میں آزاد اور خوددار فارن پالیسی چاہتا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان ہمارے دور میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مزدور نہیں مل رہے تھے، آج فیصل آباد میں مزدور سے روزگار کا حال پوچھیں، سات ماہ میں مہنگائی اور بیروزگاری بڑھ گئی ہے۔

Related Posts