پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اگر وزیراعظم ہاؤس کی سیکیورٹی بریچ ہوئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمنوں کے پاس حساس معلومات چلی گئی ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے؟
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے ایڈورڈ کالج پشاور میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر نیوٹرلز کا کام سوشل میڈیا کے لوگوں کو پکڑ کر دبانا اور میڈیا کو بند کرنا ہے، تو ملک کے مفادات کی حفاظت کون کرے گا؟
انہوں نے کہا کہ میں ملک کے محافظین سے سوال پوچھتا ہوں کہ اگر ڈاکو ایک گھر کو لوٹ رہے ہوں تو کیا چوکیدار کہہ سکتا ہے کہ میں نیوٹرل ہوں؟ گھر والے کیا کہیں گے، میرا گھر لوٹا جارہا ہے اور چوکیدار کہتا ہے میں نیوٹرل ہوں، پاکستان لوٹا جارہا ہے، ہمارا ملک تباہی کی طرف جارہا ہے، وہاں سے کہتے ہیں کہ ہم تو نیوٹرل ہیں۔
عمران خان کی آڈیو لیکس سے کوئی پریشانی نہیں، شاہ محمود قریشی
عمران خان نے سوال کیا کہ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ اگر وزیر اعظم ہاؤس کی سیکیورٹی بریچ ہوئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمنوں کے پاس حساس معلومات چلی گئی ہیں، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر نیوٹرلز کا یہ کام ہے کہ سوشل میڈیا کے لوگوں کو پکڑ کر دباؤ، میڈیا کو بند کرو، اگر تم نے یہ کرنا ہے کہ تو ملک کے مفادات کی حفاظت کون کرے گا؟
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اپنے ذہن میں ڈال لو کہ جب بھی کوئی کہے کہ میں غیر سیاسی ہوں تو سمجھ لو کہ اس میں اور جانور میں کوئی فرق نہیں ہے، جانور غیر سیاسی ہوتا ہے، شیر ایک ہرن کو پکڑ لیتا ہے، باقی ہزاروں ہرن کیونکہ غیرسیاسی ہوتے ہیں اس لیے اپنی جان بچا کر بھاگ جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اوپر والے کا حکم ہے کہ اس طرح کی نا انصافی ہو تو سب شہری کھڑے ہوں، جب ظلم کا مقابلہ کرتے ہیں تو ظلم ختم ہو جاتا ہے، اور جب ظلم کے سامنے سر جھکاتے ہیں، معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے، جس ملک میں ڈاکوؤں کو بار بار این آر او ملتا ہے، انصاف کا نظام پکڑ نہیں سکتا، ملک کے محافظ جو اپنے آپ کو طاقتور بنا کر بیٹھے ہیں وہ کہتے ہیں کہ نیوٹرل ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ امپورٹڈ کرپٹ حکومت کے خلاف کال دے رہا ہوں، اگر اکیلے بھی ان کے خلاف نکلنا پڑے تو نکلوں گا، ساری قوم کو کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے کسی چیز کا خوف نہیں، مجھے جیل کا خوف ہے نہ اپنی جان قربان کرنے کا، قوم کو بھی خوف نہیں ہونا چاہیے۔
مریم نواز کے فیصلے کے حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آج پاکستان کی عدالتوں نے مریم نواز کو بری کردیا ہے، آج ہم سارے سوال پوچھ رہے ہیں کہ یہ کیوں ہوا ہے، اگر اسی طرح سارے کیسز ختم ہوتے رہے تو ایسے ملک میں کوئی مستقبل نہیں ہے، جس ملک میں اس طرح کی لوٹ مار اور کرپشن ہو، اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہے، اس قوم کا چوری کیا گیا 11 سو ارب روپیہ معاف کیا جارہا ہے، قوم آج تاریخ کی بدترین مہنگائی میں ڈوب رہی ہے، قوم نیچے جارہی ہے، قرضوں میں ڈوب رہی ہے، معیشت تباہ ہو رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








