لاہور جلسے سے روکا گیا تو جیلیں بھر دیں گے، آر یا پار ہوگا، عمران خان

تازہ ترین

تازہ ترین

عمران خان
(فوٹو: آن لائن)

راولپنڈی: سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر لاہور جلسے سے روکا گیا تو جیلیں بھر دیں گے، اب ار یا پار ہوگا۔ آئینی ترامیم پر بحث ہونی چاہئے۔

تفصیلات کے مطابق اڈیالہ جیل میں غیر رسمی گفتگو کےدوران بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ سپریم کورٹ وہ آخری ادارہ ہے جس سے عوام کی توقعات وابستہ ہیں، سپریم کورٹ بھی تباہ کردی گئی تو پاکستان بنانا ری پبلک کا منظر پیش کرنے لگے گا۔

گفتگو کے دوران عمران خان نے افغان ایشو پر کہا کہ ملک کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے اور ہم افغان قونصلر کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ ملک میں آئینی ترامیم کا مقصد صرف اور صرف موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بچانا ہے لیکن سب کچھ رات کے اندھیرے میں نہیں ہونا چاہئے۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ یہ جو کرنے والے ہیں، آئین کے خلاف ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم کورٹ سے اٹھا کر آئینی عدالت میں بٹھا دیا جائے گا۔ میں نے اس قسم کے فیصلے کرنے والے ڈفر ار کم عقل بہت کم دیکھے۔ یہ خوفزدہ ہیں، پھر کہتے ہیں کہ مجھے خبریں مل جاتی ہیں۔

بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ مجھے علم تھا کہ یہ ترمیم آئے گی، جو بھی ہونا ہے، پوری مشاورت کے ساتھ کرنا ہوگا، رات کے اندھیرے میں نہیں۔ اس سے ان لوگوں کے مقاصد پتہ چلتے ہیں۔ لاہور کا جلسہ ڈو اینڈ ڈائی ہے۔ ہم نے پوری پارٹی سے کہہ دیا، باہر نکلیں، میں 15ماہ سے جیل میں ہوں، مزید بھی رہنے کو تیار ہوں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ عوام بھی جیل جانے سے نہ گھبرائیں، جلسے سے روکا گیا تو جیلیں بھر دی جائیں گی۔ لائن کے ایک طرف وہ ہیں جو ووٹ کو عزت دینے کی بات کرکے بوٹ کو عزت دے رہے ہیں، جمہوریت کو ڈنڈے کے زور پر یا غلام بنا کر نہیں چلایا جاسکتا۔

 

Related Posts