اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے جمعرات کو سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کالعدم قرار دینے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا انصاف کا دوہرا معیار کیوں ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی میں بڑی سیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کو گرفتار کیا گیا لیکن ان میں سے کسی کو بھی گیسٹ ہاؤس کی سہولت نہیں دی گئی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ قوم کو کب تک ایسے فیصلوں سے بے وقوف بنایا جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں تمام تشدد پی ٹی آئی رہنما ؤکے کہنے پر ہوا، لیکن انہیں ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی تشدد کی ایک تاریخ ہے کیونکہ انہوں نے 2014 کے عمران خان اور موجودہ صدر ڈاکٹر عارف علوی کی نگرانی میں پی ٹی وی کی عمارت پر حملہ کیا تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ میں چھ ماہ قید میں رہا اور تین بینچ ٹوٹے تھے، وطن عزیز میں کیا ہو رہا ہے، ریاست پر حملہ ہوا ہے، دفاعی اداروں پر ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا، جو کچھ لاہور، اسلام آباد، پشاور میں ہوا ایک پیٹرن ہے۔
عدلیہ آرڈر کا لفظ استعمال کرنے کے بجائے خواہش کا لفظ استعمال کر رہی ہے، ایک آڈیو ٹیپ سامنے آئی ہے کہ فیصلہ یہ آنا ہے، انہوں نے قیوم صدیقی کو کچھ اور بھی بتایا ہے۔
وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ اگر کسی اور پارٹی نے ایسا کیا ہوتا تو کیا ہوتا، ہماری قسمت میں صرف مشقت ہے، چھ، چھ ماہ ضمانتیں نہیں ہوتی تھیں، ہو سکتا ہے لوازمات مہیا نہ ہوں تو یاداشت ڈسٹرب ہو جاتی ہے۔
2014 میں پارلیمنٹ، پی ٹی وی پر حملہ ہوا تھا، صدارتی محل میں بیٹھا ہوا شخص فون پر اس وقت کمپلائنس کی رپورٹ دے رہا تھا، جی ایچ کیو پر پہلے تحریک طالبان اور اب تحریک انصاف نے حملہ کیا۔
مزید پڑھیں:عمران خان کی رہائی: وزیر اعظم نے اتحادیوں سے مشاورت کا فیصلہ کرلیا
مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے بھی چیف جسٹس عمر عطا بندیال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ عہدہ چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوجائیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








