عمران خان کا یو ٹرن! دہشتگردوں کو بسانے سے انکار، پرانی ویڈیوز نے پول کھول دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی و سابق وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی حکومت نے 2011 میں ہتھیار ڈالنے والے دہشت گردوں کو خیبر پختونخوا میں بسانے کے منصوبے کو مسترد کر دیا تھا تاہم سوشل میڈیا پر وائرل ان کے پرانے بیانات اس نئے دعوے کی سختی سے تردید کر رہے ہیں جس سے سیاسی حلقوں اور عوام میں بحث چھڑ گئی ہے۔

عمران خان نے اپنے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر کہا کہ 2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشت گردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا لیکن خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں نے اسے مسترد کر دیا۔

انہوں نے زور دیا کہ ان کے دورِ حکومت میں اس منصوبے پر عمل نہیں ہوا۔عمران خان نے موجودہ الزامات کو سراسر جھوٹ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشت گرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟

لیکن سوشل میڈیا صارفین نے عمران خان کے اس بیان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے پرانے بیانات سامنے لے آئے۔ صارفین نے ایسی ویڈیوز شیئر کیں جن میں عمران خان مبینہ طور پر یہ تسلیم کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کی حکومت نے تقریباً 40 ہزار دہشت گردوں کو خیبر پختونخوا میں بسایا تھا۔

ایک پرانے انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ جب افغانستان میں طالبان نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے پاکستان سے کہا کہ وہ اپنے لوگوں کو واپس لے جائے جس کے بعد ہتھیار ڈالنے والے دہشت گردوں کو صوبے میں لایا گیا۔

یہ تنازعہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔عمران خان کے دورِ حکومت میں خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر سیف نے اگست 2022 میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ صوبے میں بدامنی کی وجہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مخالفین ہیں نہ کہ خود ٹی ٹی پی۔

Image

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ افغان طالبان کی ثالثی میں وفاقی حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا جو اس وقت تک برقرار تھا۔ بیرسٹر سیف نے دعویٰ کیا تھا کہ ٹی ٹی پی اس وقت ٹارگٹ کلنگ یا بھتہ خوری جیسے جرائم میں ملوث نہیں تھی۔

سوشل میڈیا پر صارفین نے عمران خان کے نئے بیان کو یہ کیسے ممکن ہے؟ کا طعنہ دیتے ہوئے ان سے سوال کیا کہ اگر ان کی حکومت نے دہشت گردوں کو بسانے کا منصوبہ مسترد کیا تھا تو پھر ان کے پرانے بیانات اور ان کے معاون خصوصی کے دعوے اس کے برعکس کیوں ہیں؟ یہ تضاد سیاسی میدان میں ایک نئے تنازعے کو جنم دے رہا ہے جبکہ عوام حقائق جاننے کے لیے بے تاب ہیں۔

یہ صورتحال نہ صرف پی ٹی آئی کی ساکھ کے لیے ایک بڑا امتحان ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ کیا ماضی کے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کی جائے گی یا سیاسی بیانات کے ذریعے اسے مسلسل دھندلانے کی کوشش کی جائے گی؟

Related Posts