بھارت کا گاؤں جہاں ہندو مرد تین تین شادیاں کرتے ہیں، وجہ جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو: بزنس اسٹینڈرڈ)

دنیا میں کئی انوکھے رسم و رواج ہیں، مگر بھارت کے ایک گاؤں میں ہندو مرد تین شادیاں کرتے ہیں اور اس کی حیران کن وجہ ہے پانی۔

بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے گاؤں دینگن مال میں پانی کی شدید کمی نے ایک غیر معمولی روایت کو جنم دیا ہے۔ یہاں کی خواتین روزانہ میلوں کا سفر طے کر کے دور دراز کنوؤں سے پانی لاتی ہیں، اور اس کام میں 12،12 گھنٹے لگ جاتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، جب کسی عورت کو حمل ٹھہر جاتا ہے اور وہ یہ طویل سفر کرنے کے قابل نہیں رہتی، تو اس کا شوہر دوسری یا بعض اوقات تیسری شادی کر لیتا ہے۔ نئی بیوی کا اصل مقصد بچوں کی پرورش نہیں بلکہ گھر کے لیے پانی لانا ہوتا ہے۔

عموماً دوسری یا تیسری بیویاں وہ خواتین بنتی ہیں جو طلاق یافتہ ہوتی ہیں یا جہیز نہ دینے کے باعث شادی کے مواقع سے محروم رہ جاتی ہیں، اور معاشرتی عزت برقرار رکھنے کے لیے اس قسم کی شادیاں کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ تاہم، انہیں بچے پیدا کرنے یا شوہر کی جائیداد میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندو مذہب میں ایک سے زائد شادیاں غیر قانونی ہیں، مگر اس گاؤں میں پانی کی ضرورت اس قانون کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے۔

ایک خاتون نے بتایا: ’’جب میں شادی کے بعد اس گھر میں آئی تو پانی کی کمی سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ شوہر نے کہا کہ دوسری شادی کروں گا تو مسئلہ حل ہو جائے گا، میں نے اجازت دے دی۔ سوتن آئی مگر پانی کا مسئلہ برقرار رہا۔ پھر شوہر نے تیسری شادی کر لی اور ہم تینوں ایک ساتھ رہنے لگیں۔ وہ کہتا ہے کہ وہ ہم سب سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور ہمارا خیال رکھتا ہے۔‘‘

دینگن مال میں محبت اور شادی صرف رشتے نبھانے کا نہیں، بلکہ زندگی کی سب سے بنیادی ضرورت — پانی — کو پورا کرنے کا ذریعہ بھی ہیں۔

Related Posts