کراچی میں ایک بار پھر کھلے دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا

تازہ ترین

تازہ ترین

دودھ کی قیمتوں کے تعین سے متعلق کمشنر اور ضلعی انتظامیہ کے اختیارات چیلنج
دودھ کی قیمتوں کے تعین سے متعلق کمشنر اور ضلعی انتظامیہ کے اختیارات چیلنج

کراچی: شہر قائد میں ایک بار پھر کھلے دودھ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کردیا گیا، جس کے باعث شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

کراچی کے شہری ایک جانب کھلا اور ناقص دودھ استعمال کرنے پر مجبور ہیں تو دوسری جانب ڈیری مافیا کی جانب سے دودھ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔

اس حوالے سے صدر ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز شاکر عمر گجر نے عذر پیش کیا کہ آئے روز دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کیوں ہورہا ہے؟ اس کے محرکات جاننے کی کوشش کی جائے، یہ بھی معلوم کیا جائے کہ کمپنیاں بھی دودھ کہاں سے حاصل کررہی ہیں؟۔

شاکرعمر گجر نے دعوی کیا کہ کراچی میں فروخت ہونے والا کھلا دودھ 95 فیصد خالص ہے، چند فیصد لوگ ایسے ہیں جو ملاوٹ جیسے گھناؤنے دھندے میں مصروف ہیں۔

صدر ڈیری فارم اینڈ کیٹل فارمرز نے دودھ کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ چارے کی ایکسپورٹ کو قرار دیا اور کہا کہ حکومت چارے کی ایکسپورٹ پالیسی پر نظر ثانی کرے تاکہ ڈیری فارمز کا نیٹ وسیع پیمانے پر پھیلایا جاسکے اس حکمت عملی سے دودھ کی پیداوار بڑھے گی اور اس کی قیمتوں میں نمایاں کمی بھی ہوگی۔

شاکر عمر گجر نے ایک جانب تو کھلے دودھ کی قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ رواں ماہ ہی دودھ کی قیمتیں بڑھیں گی، جتنے اخراجات آتے ہیں، ہماری کوشش ہوگی کہ فی لیٹر پر 20 روپے کا اضافہ ہو۔

مزید پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ نے دودھ کی قیمتوں میں اضافے پر کمشنرکراچی سے جواب طلب کرلیا

Related Posts