کیا پاکستان مزید افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کرپائے گا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

کابل سے امریکا منتقل ہونیوالے تقریبا 4 ہزار افراد کو کراچی لانے کا فیصلہ
کابل سے امریکا منتقل ہونیوالے تقریبا 4 ہزار افراد کو کراچی لانے کا فیصلہ

کیا پاکستان مزید افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کرپائے گا ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو حل طلب ہے۔ نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اگر افغانستان میں خانہ جنگی ہوتی ہے تو لازمی  سی بات ہے کہ لوگ ہجرت کریں گے۔

پاکستانی حکومت کی جانب سے افغانستان کے ساتھ تقریباً 2500 کلو میٹر طویل سرحد پر خاردار باڑ لگانے کا منصوبہ تکمیل کے مراحل میں ہے۔ اس باڑ کو مستقل میں سیکیورٹی کے خطرات سے مقابلہ کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ مگر یہ کسی بھی خطرے کا مستقل حل نہیں ہے۔ ڈیورنڈ لائن کے نام سے مشہور پاک افغان سرحد پر باڑ لگائے جانے کے منصوبے کی اہمیت امریکہ اور نیٹو افواج کے انخلا کے حالیہ اعلان کے تناظر میں مزید بڑھ گئی ہے۔

پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا مقصد

پاکستانی حکومت کے ایما پر 2014 میں شمالی وزیرستان سمیت سابقہ قبائلی علاقوں میں پاک فوج کے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی ) اور دیگر شدت پسند تنظیموں نے اپنے ٹھکانے افغانستان کے سرحری صوبوں میں بنالیے تھے۔ ان صوبوں میں کنٹر ، خوست اور ننگر ہار کے صوبے قابل ذکر ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تقریباً 25 سو کلومیٹر طویل سرحد جس تقریباً آدھا حصہ یعنی 1229 کلو میٹر صوبہ خیبرپختون خوا اور باقی حصہ صوبہ بلوچستان سے لگتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاک افغان سرحد پر 235 مقامات ایسے ہیں جہاں سے عوام ، اسمگلرز اور شدت پسند غیرقانونی طریقے سے سرحد پار کرتے رہے ہیں۔

افغانستان میں پناہ لینے والی دہشت گرد تنظیم ٹی ٹی پی اور دیگر پاکستانی شدت پسند تنظیموں اور کبھی افغان سیکیورٹی فورسز کی جانب سے سرحد پار مبینہ حملوں میں اضافے کو دیکھتے ہوئے پاکستانی حکومت نے 2017 میں سرحد پر باڑ لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔

پاکستان میں افغان مہاجرین کی تعداد

کسی بھی ملک کی معیشت کی صحت کو جاننے کے لئے اس ملک کا جی ڈی پی دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت 27 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں۔ جن میں 14 لاکھ 18 ہزار کو مہاجرین کا درجہ حاصل ہے باقی 13 لاکھ غیرقانونی طور پر مقیم ہیں۔ 2002 سے 2020 تک تقریباً 44 لاکھ افغان مہاجرین رضاکارانہ طور پر افغانستان منتقل ہوچکے ہیں۔

30 جون 2016 کو اس وقت وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ 10 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین نے پاکستان میں ملازمتیں حاصل کررکھی ہیں۔

افغان مہاجرین اور پاکستانی معیشت

اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ دہشتگردی اور افغان مہاجرین کی کثیر تعداد کی وجہ سے پاکستانی معیشت زبردست دباؤ کا شکار ہے۔ جہاں ایک طرف افغان مہاجرین کی وجہ سے معیشت دباؤ کا شکار ہے وہیں دہشتگردی کی وجہ سے 120 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ افغان پناہ گزینوں کی وجہ سے مقامی لوگوں کے لئے روزگار کا نقصان ہوا ہے۔ خیال رہے کہ پاکستان مہاجرین کی میزبانی کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، پاکستان میں افغانستان سمیت دنیا بھر کے لاکھوں مہاجرین قانونی یا غیر قانونی طور پر آباد ہیں جس کی وجہ سے ملکی معیشت اور امن وامان کی صورتحال پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔

آخری الفاظ

افغانستان کی بدامنی سے منڈلانے والے خطرات سے بچاؤ کےلیے پاکستان کی سیاسی قیادت کو یکجا ہو کر سوچنا ہوگا ۔ اسلام آباد کو آنے والے خطرے کے پیش نظر وقت سے پہلے نئی صف بندی کرنا ہوگی۔ حکومت کو مغربی سرحد سے اٹھنے والے خطرات کے بادلوں کو روکنے کےلیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ ملکی معاشی صورتحال بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کیا جاسکے۔ اس حوالے سے حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : قادیانیوں کے نام بطور مفسر شامل کرنے پر سندھ یونیورسٹی کیخلاف تھانہ میں درخواست جمع

Related Posts