مانسہرہ میں امام مسجد کی تین ساتھیوں سمیت مدرسے کے طالب علم کیساتھ گن پوائنٹ پر جنسی زیادتی

تازہ ترین

تازہ ترین

جنسی زیادتی کا مبینہ متاثر طالب علم
جنسی زیادتی کا مبینہ متاثر طالب علم، فوٹو سوشل میڈیا
صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر مانسہرہ میں ایک اور افسوسناک اور شرمناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں مدرسے کے طالب علم کو اسلحے کی نوک پر چار افراد نے مبینہ طور پر باری باری جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ واقعے میں ایک امام مسجد بھی نامزد ہے، جو تاحال مفرور ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق یہ واقعہ تھانہ سٹی کی حدود میں پیش آیا۔ متاثرہ طالب علم قاری محمد اسماعیل کی درخواست پر مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ مرکزی ملزم امام مسجد کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ایف آئی آر کا عکس
ابتدائی رپورٹ
ایف آئی آر کے مطابق ملزمان کے نام قاری حبیب اللہ، مولوی عبد اللہ اور دیگر دو نامعلوم افراد ہیں، یہ واقعہ مدرسہ تعلیم القرآن مسجد اہل سنت والجماعت کڑاکڑ غنی بالا میں پیش آیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ طالب علم کا میڈیکل معائنہ کروا لیا گیا ہے اور واقعے کی تفتیش ہر زاویے سے جاری ہے۔ جلد باقی مفرور ملزم کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔
علاقہ مکینوں اور شہری حلقوں نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو عبرتناک سزا دی جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔

Related Posts