وفاقی حکومتِ نے بیرونِ ملک بھیک مانگنے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ڈی پورٹ کیے گئے افراد کے پاسپورٹس پر پانچ سے دس سال تک پابندی عائد کر دی ہے۔ حکام کے مطابق اب تک ہزاروں پاسپورٹس بلاک کیے جا چکے ہیں تاکہ ایسے افراد دوبارہ بیرونِ ملک سفر نہ کر سکیں۔
یہ اقدام گزشتہ سال شروع کیے گئے وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کا تسلسل ہے جس میں حکومت نے مبینہ بھکاری مافیا کے خلاف کارروائیاں تیز کی تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض افراد عمرہ اور دیگر وزٹ ویزوں کا غلط استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں جا کر بھیک مانگنے میں ملوث پائے گئے۔
ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے 56 ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں کو ڈی پورٹ کیا جنہیں منظم گروہوں کا حصہ قرار دیا گیا تھا۔ ان افراد پر الزام تھا کہ وہ عمرہ اور وزٹ ویزوں کی سہولت سے فائدہ اٹھا کر وہاں غیر قانونی طور پر رقم اکٹھی کرتے تھے۔
اس سے قبل سعودی حکومت نے اسلام آباد کو اس معاملے پر باضابطہ شکایت ارسال کی تھی، جس کے بعد ایف آئی اے کی جانب سے ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کی گئی تاکہ اس مسئلے کی مکمل تحقیقات کر کے مؤثر حکمتِ عملی مرتب کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی چوہدری سالک حسین نے کہا ہے کہ حکومت ان افراد کے خلاف کارروائی کر رہی ہے جو عمرہ اور دیگر وزٹ ویزوں پر بیرونِ ملک جاتے ہیں لیکن بعد ازاں خلیجی ممالک میں غیر قانونی سرگرمیوں خصوصاً بھیک مانگنے، میں ملوث ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ یہ افراد باضابطہ طریقہ کار کے تحت ویزہ حاصل کرتے ہیں تاہم بیرونِ ملک پہنچنے کے بعد قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ڈی پورٹ کیے گئے افراد کے پاسپورٹس بلاک کر دیے جاتے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں دوبارہ سفر نہ کر سکیں اور ان اقدامات کے نتیجے میں ایسے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ ایف آئی اے کی سفارشات پر ملوث افراد پر پانچ سے دس سال تک پاسپورٹ پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں اور اب تک کئی ہزار پاسپورٹس منسوخ یا بلاک کیے جا چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات پاکستان کے بین الاقوامی تشخص کو بہتر بنانے، امیگریشن قوانین کی پاسداری یقینی بنانے اور بیرونِ ملک غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








