دلچسپ اور عجیب، دنیا کے کس علاقے میں سورج 64روز تک طلوع نہیں ہوگا اور کیوں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

سورج
(فوٹو: بزنس انسائیڈر)

دنیا کے شمالی کنارے پر واقع امریکی شہر اتقیاگوِک (Utqiaġvik) ایک بار پھر ایک ایسے قدرتی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جو زمین پر صرف چند مقامات کو نصیب ہوتا ہے۔ یہاں سورج اپنی آخری لکیر افق پر چھوڑ کر 64 دن کے لیے غائب ہوچکا ہے۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ امریکی شہر میں یہ وہ لمحہ ہے جسے پولر نائٹ یا قطبی شب کہا جاتا ہے جو ایک ایسا وقت ہوتا ہے جب انسان وقت کو دن اور رات کی تقسیم سے نہیں، بلکہ موسم کی شدت اور آسمان کے رنگوں سے ناپنے پر مجبور ہوجاتا ہے تاکہ زندگی معمول کے مطابق آگے بڑھ سکے۔

یہ حیرت انگیز مظہر زمین کے محور کے جھکاؤ کی بدولت پیدا ہوتا ہے۔ شمالی قطب سورج سے قدرتی طور پر دور ہوجاتا ہے اور نتیجے میں اتقیاگوِک کئی ہفتوں تک سورج کی روشنی سے محروم رہتا ہے۔ لیکن تاریکی کبھی مکمل نہیں رہتی۔ ہر روز چند گھنٹوں کے لیے آسمان پر نیلی مدھم روشنی ابھرتی ہے، گویا فطرت سرگوشی میں کہہ رہی ہو کہ روشنی کہیں گئی نہیں، بس رکی ہے۔

آج بھی تقریباً ساڑھے چار ہزار افراد اس شہر میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہاں سرد ہوائیں صرف موسم نہیں بلکہ انسانی بقا کی کڑی آزمائش ہیں۔، جہاں درجہ حرارت منفی 30 ڈگری سے بھی نیچے گر جاتا ہے جبکہ قطبی بھنور جیسے برفانی نظام کبھی کبھار دنیا کے نسبتاً گرم خطوں تک بھی اثر چھوڑ جاتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی شہر، جسے سردیوں میں دو ماہ کی تاریکی گھیر لیتی ہے، گرمیوں میں تقریباً 24گھنٹے سورج کی روشنی میں ڈوبا رہتا ہے۔ یہاں رات کا تصور مٹ جاتا ہے، بچے کھیلتے رہتے ہیں، اور زندگی دن کے دائرے میں قید ہوجاتی ہے۔

فلسفیانہ انداز میں کہا جائے تو یہ شہر صرف شہر نہیں بلکہ یہ یاد دہانی ہے کہ کائنات ابھی تک انسان کی سوچ اور ذہن سے بڑی ہے، اور زمین کے گوشے ایسے ایسے سربستہ راز چھپائے بیٹھے ہیں جو آج بھی حیرت، خوف اور تجسس کو یکجا کر دیتے ہیں۔

Related Posts