کراچی، خواتین کے موبائل فون ہیک کرکے نازیبا ویڈیوز بنانے والے ملزم کے سنسنی خیز انکشافات

تازہ ترین

تازہ ترین

ہیکنگ اور نازیبا ویڈیوز
(فوٹو: ای ٹریبیون)

کراچی میں عید گاہ پولیس نے مختلف لنکس کے ذریعے خواتین کے موبائل فونز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کرکے نازیبا ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے ملزم سمیر عرف پی کے کو گرفتار کر لیا جس نے دورانِ تفتیش سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ملزم  نے دورانِ تفتیش لاہور کے ایک شہری سے صرف 5000روپے میں مختلف لنکس حاصل کرنے کا اعتراف کیا جو موبائل فون ہیک کرنے میں مددگار ثابت ہوئے۔ ملزم سمیر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بشمول واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام لنکس متاثرہ خواتین کے ساتھ شیئر کرتا تھا۔

دورانِ تفتیش ملزم سمیر نے بتایا کہ وہ خواتین کے موبائل فون یا پھر سوشل میڈیا آئی ڈی ہیک کرنے کے بعد گوگل اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرلیتا تھا، جس کے بعد موبائل فون کے مکمل ڈیٹا تک رسائی آسان ہوجاتی تھی۔ آئی ڈیز ہیک کرنے کے بعد ملزم خواتین کی ذاتی معلومات بھی چوری کرلیتا تھا۔

ملزم سمیر عرف پی کے نے پولیس کو بتایا کہ وہ خواتین کو پہلے دوستی اور پھر ملاقات پر مجبور کرتا تھا۔ اس نے صرف 7ویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے جبکہ اس نے ہیکنگ آن لائن گروپس سے سیکھی ہے۔ آخری واردات میں اس نے کراچی کے علاقے رنچھوڑ لائن کی ایک لڑکی کا موبائل فون ہیک کیا تھا۔

پولیس نے رنچھوڑ لائن کے واقعے کی اطلاع ملنے پر ملزم کو گرفتار کیا۔ ملزم سمیر کا کہنا ہے کہ اس نے 4خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنائی ہیں جنہیں اپنی ذاتی تسکین کیلئے محفوظ کیا تھا۔

اس حوالے سے ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سے تفتیش کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی جو اس سے برآمدہ موبائل فون اور لیپ ٹاپ کی تکنیکی جانچ اور فرانزک معائنہ کروائے گی، تفتیش میں وفاقی حساس ادارے کے ساتھ ساتھ سی ٹی ڈی افسران بھی حصہ لے رہے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ ایس ایچ او تھانہ عید گاہ حفیظ اعوان کا کہنا ہے کہ ملزم سمیر کے موبائل فون سے 450 سے زائد نامناسب ویڈیوز ملیں اور ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نے 100 سے زائد لڑکیوں کو ہوس کا نشانہ بنایا تھا۔ گرفتار ملزم گلستانِ جوہر کا رہائشی ہے جس کی شادی نہیں ہوئی تھی۔

رابعہ سٹی کے رہائشی سمیر کے اہل خانہ میں والدہ اور بہنیں شامل ہیں، جنہیں ملزم کے کالے کارناموں کا علم ہے۔ سمیر نے ابتدائی بیان میں خود کو ایف اے پاس قرار دیا تھا، لیکن بعد میں بیان تبدیل کردیا۔ ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ ملزم متوسط طبقے کی خواتین کو آن لائن ارننگ کا جھانسہ دے کر موبائل فونز ہیک کرتا تھا۔

فون ہیک کرنے کے بعد ملزم ذاتی معلومات چوری کرتا اور پھر خواتین کو بلیک میل کرنے کیلئے بلا کر گھناؤنا جرم کرتا اور اسی دوران ویڈیوز بھی ریکارڈ کی جاتی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو مزید تفتیش کیلئے سائبر کرائم کے حوالے کیا گیا ہے تاہم تفتیش موبائل فون اور لیپ ٹاپ کے ڈیٹا کی مدد سے آگے بڑھائی جارہی ہے۔ ملزم سے برآمد کیا گیا ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت کیا جارہا ہے یا نہیں؟ اس پر تفتیش جاری ہے۔

Related Posts