مشرق وسطی میں دفاعی اقدامات میں اضافہ، امریکا کے مقاصد کیا ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

7 اکتوبر کو شروع ہونے والے فلسطین اسرائیل تنازعے کے پس منظر میں خطے میں امریکا نے مشرق وسطی میں اضافی فضائی دفاعی نظام بھیجنے کا اعلان کیا ہے، آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں امریکا کا منصوبہ کیا ہے؟

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) نے کہا ہے کہ وہ خطے میں اپنی افواج پر حالیہ حملوں کے جواب میں ایک ’تھاڈ‘ فضائی دفاعی نظام اور پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کی اضافی بٹالین مشرق وسطیٰ بھیجے گا۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے اسرائیل کیخلاف اعلان جہاد کر دیا

دریں اثنا امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ ایران کی طرف سے حالیہ کشیدگی میں شامل ہونے کی کوشش اور خطے میں اس کی حمایت یافتہ فورسز کے بارے میں امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ وسیع بات چیت کے بعد انہوں نے دفاعی پوزیشن کو مضبوط بنانے کی ہدایت کی ہے۔

اسرائیل کی مدد

ان اضافی اقدامات کے بارے میں لائیڈ آسٹن نے کہا کہ ان میں ڈوائٹ آئزن ہاور طیارہ بردار جنگی بیڑے کو سینٹرل کمانڈ کے ذمہ دار علاقے میں منتقل کرنا، ڈیٹرنس کی کوششوں کو مضبوط بنانا، خطے میں امریکی افواج کے تحفظ کو بڑھانا اور اسرائیل کے دفاع میں مدد کرنا شامل ہے۔

اس میں مشرقی بحیرہ روم کے علاقے میں واقع طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ فورڈ کے جنگی گروپ کی تعیناتی بھی شامل ہے۔ امریکی افواج کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائل کی بیٹریاں بھی نصب کی جائیں گی۔

ایران کے اتحادی

یہ امریکی انتباہ گزشتہ دنوں عراق میں تعینات امریکی اڈوں اور فورسز پر حملے کی متعدد کوششوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ مسلح دھڑوں نے گذشتہ عرصے کے دوران تقریباً 4 بار مغربی عراق کے شہر الانبار میں عین الاسد کے اڈے کو نشانہ بنایا۔

عراقی مسلح گروپ (عراقی مزاحمتی موومنٹ) نے بھی گزشتہ گھنٹوں کے دوران اربیل ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ اس سے قبل بغداد ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر بھی امریکی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر فیلڈ ڈیٹا کی ضرورت پڑی تو وہ اسرائیل فلسطین تنازع میں داخل ہو جائے گی۔ یہ دھمکی حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان جھڑپوں کی شدت کے بعد سامنے آئی ہے۔

دونوں فریقوں کے درمیان اتوار کو دوبارہ گولہ باری کا تبادلہ ہوا ہے جبکہ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ حزب اللہ لبنان کو جنگ میں گھسیٹ رہی ہے۔

اسرائیل نے شام اور تہران کے ساتھ اتحادی دھڑوں کی کچھ نقل و حرکت پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ اسی پس منظر میں ہفتے کے روز اسرائیل نے دمشق اور حلب کے ہوائی اڈوں پر بمباری کی تھی۔

پینٹاگان کے ترجمان پیٹ رائڈر نے بھی جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ شام اور عراق میں امریکی افواج کو کئی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

Related Posts