مودی سرکار کی بوکھلاہٹ، پاکستان کے معاملے پر بھارت اور پولینڈ آمنے سامنے، یورپی ملک ڈٹ گیا

تازہ ترین

تازہ ترین

پولش اور انڈین وزرائے خارجہ، فوٹو عالمی میڈیا

پاکستان کے معاملے پر بھارت اور پولینڈ کے درمیان سفارتی اختلافات شدت اختیار کر گئے۔

بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پولینڈ کے پاکستان سے بڑھتے روابط پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولینڈ کو خطے میں دہشت گردی کو “ہوا دینے” سے گریز کرنا چاہیے، جبکہ پولینڈ کے وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم راڈوسواف سِکوراسکی نے روس میں ہونے والی فوجی مشقوں میں بھارت کی شرکت کو “تشویشناک اور خطرناک” قرار دیا۔

یہ صورتحال پیر 19 جنوری 2026 کو نئی دہلی میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی، جہاں پاکستان اور روس کے معاملات پر کھل کر اختلافی موقف اختیار کیا گیا۔

مذاکرات کے آغاز پر ایس جے شنکر نے پولینڈ کے وزیر خارجہ کے اکتوبر 2025 کے دورۂ پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنے دوست ممالک سے توقع رکھتا ہے کہ وہ خطے میں دہشت گردی کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں کسی قسم کا کردار ادا نہ کریں۔

انہوں نے مہمان وزیر خارجہ کو ڈکٹیٹ کرنے کے انداز میں کہا کہ پولینڈ کو دہشت گردی کے معاملے میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنانی چاہیے اور ہمارے پڑوس میں دہشت گردی کو فروغ دینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

بھارتی وزیر خارجہ کا اشارہ پولینڈ کے وزیر خارجہ کے اکتوبر 2025 میں پاکستان کے دورے کی جانب تھا، جہاں انہوں نے پاکستانی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں۔ یہ دورہ مئی 2025 میں ہونے والے پاک بھارت کشیدہ حالات کے چند ماہ بعد ہوا تھا، جس پر نئی دہلی پہلے ہی ناراضی کا اظہار کر چکا تھا۔

دوسری جانب پولینڈ کے وزیر خارجہ راڈوسواف سِکوراسکی نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت “دو ٹوک اور واضح” رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مسئلے پر دونوں ملکوں کے خیالات ملتے جلتے ہیں، تاہم روس اور بیلاروس میں ہونے والی “زاپاد 2025” فوجی مشقوں میں بھارت کی شرکت پولینڈ اور یورپ کے لیے باعثِ تشویش ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر ملک کو اپنے خطے اور پڑوسی ممالک کے حوالے سے خدشات ہوتے ہیں۔ دہشت گردی پر ہم متفق ہیں، لیکن بھارت کی روسی فوجی مشقوں میں شمولیت ہمیں خطرناک محسوس ہوتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق بھارت کو پولینڈ کے وزیر خارجہ کے حالیہ طنزیہ بیانات پر بھی شدید تحفظات ہیں جن میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری میں کمی “پوٹن کی جنگی مشین کو مالی نقصان” پہنچا رہی ہے۔

یہ سفارتی کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت اور پولینڈ کے تعلقات حالیہ برسوں میں بہتر ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھ کر 7 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو گزشتہ دس برسوں میں 200 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ دونوں ممالک براہ راست پروازوں، ٹیکنالوجی اور تجارتی تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ پولش وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ بیان کے مطابق پاکستان نے اس ملاقات کے دوران جموں و کشمیر کے تنازع پر معلومات فراہم کی تھیں، جس پر دونوں فریقوں نے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق مسئلے کے پرامن حل پر اتفاق کیا تھا۔

پولینڈ اور پاکستان کے تعلقات دوسری جنگِ عظیم کے زمانے سے ہیں۔ اس وقت کراچی اور کوئٹہ میں پولش مہاجرین کے لیے بستیاں قائم کی گئی تھیں۔ ساتھ ہی پولینڈ نے پاکستانی فضائیہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

Related Posts