لاہور: بھارت نے دریائے ستلج میں مزید 2 لاکھ 50 ہزار سے 3 لاکھ کیوسک پانی چھوڑ دیا ہے جو اگلے 48 گھنٹوں میں پاکستان میں داخل ہوگا۔
آبپاشی حکام کے مطابق یہ پانی بھارت کے پونگ اور بھاکرا ڈیموں سے چھوڑا گیا ہے جس کی اطلاع بھارتی ہائی کمیشن کے ذریعے اسلام آباد کو دی گئی۔
ایک ماہ سے زائد عرصے سے دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا ہیڈ ورکس پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب نے دریائے ستلج سے ملحقہ اضلاع کو ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق بھارت کے لوئر ہریکے اور لوئر فیروزپور پر بھی اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق قصور، اوکاڑہ، بہاولنگر، پاکپتن، وہاڑی، لودھراں، بہاولپور، ملتان اور مظفرگڑھ کے اضلاع میں سیلابی صورتحال کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
دریائے ستلج میں ہیڈ سلیمانکی پر بھی بلند سطح کے سیلاب میں ہے جبکہ دریائے چناب ہیڈ تریموں پر اونچے درجے کے سیلاب سے گزر رہا ہے اور امکان ہے کہ یہ پانی آج شام ملتان پہنچ جائے گا۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق راوی اور چناب کے مشترکہ 6 لاکھ 50 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا رنگ پور پوائنٹ سے داخل ہو رہا ہے۔
دوسری جانب دریائے سندھ میں بھی بڑا ریلا 6 اور 7 ستمبر کے درمیان سندھ میں داخل ہو سکتا ہے، جبکہ اس وقت گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب جاری ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ چار روز قبل قادرآباد بیراج پر 10 لاکھ 77 ہزار کیوسک پانی کا دباؤ ریکارڈ کیا گیا تھا اور پانچ ستمبر کے قریب گڈو بیراج پر 8 سے 11 لاکھ کیوسک کا ریلا متوقع ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 9 لاکھ کیوسک سے زیادہ دباؤ ’’سپر فلڈ‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔
چشتیاں شہر بدترین سیلابی صورتحال سے دوچار ہے۔ تیز رفتار پانی کے ریلوں نے شدید کٹاؤ پیدا کیا جبکہ موٹیانوالا پتن اور موضع عظیم کے مقام پر حفاظتی بند ٹوٹنے سے سو سے زائد دیہات ڈوب گئے۔ اس تباہی کے نتیجے میں سیکڑوں مکانات تباہ ہو گئے اور لگ بھگ 10 ہزار ایکڑ فصلیں پانی میں بہہ گئیں۔
سیلابی ریلے نے کئی رابطہ سڑکیں بھی بہا دیں جس سے متعدد علاقے کٹ گئے۔ ہزاروں متاثرہ مکین فوری امداد کے منتظر ہیں۔
ضلعی پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے ریسکیو آپریشن جاری ہے اور حکام کے مطابق 80 فیصد سے زائد متاثرہ آبادی اور مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








