نئی دہلی: بھارتی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ ملک میں اقلیت مخالفت عروج پر ہے، گزشتہ 5سال میں فرقہ وارانہ تشدد کے 2900سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔
تفصیلات کے مطابق نریندر مودی حکومت نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے تسلیم کیا کہ گزشتہ 5 سال میں فرقہ وارانہ تشدد کے 2908 واقعات رپورٹ ہوئے تاہم 2021گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بہتر رہا۔
بابری مسجد انہدام کیس، 32ملزمان کی بریت چیلنج کرنیکا فیصلہ
بھارتی پارلیمنٹ میں ایک سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے وزیرِ داخلہ نیتا نند رائے نے بدھ کے روز بتایا کہ سال 2021 میں فرقہ وارانہ تشدد یا اقلیت مخالف فسادات کے 378، 2020 میں 857 جبکہ 2019 میں 438 واقعات رپورٹ ہوئے۔
تحریری جواب میں بھارتی وزیر داخلہ نے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2018 میں 512 جبکہ 2017 میں فرقہ وارانہ و مذہبی تشدد کے 723 مقدمات درج ہوئے۔
وزیر داخلہ کا تحریری جواب میں کہنا تھا کہ این سی آر بی پرتشدد ہجوم کی جانب سے مذہبی اقلیتوں پر تشدد یا فرقہ وارانہ فسادات کا کوئی علیحدہ اندراج نہیں کرتا جبکہ نریندر مودی حکومت تشدد کے خلاف اقدامات کیلئے ایڈوائزری جاری کرتی رہی ہے۔
خیال رہے کہ دہلی میں حالیہ اقلیت مخالف فسادات میں مسلمانوں سے سرِ عام مارپیٹ کی ویڈیوز وائرل ہوگئی تھیں جس پر مودی حکومت کو عالمی برادری میں سبکی اور شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








