نیدر لینڈز میں پاکستانی وکیل ثاقب جیلانی کیلئے انسانی حقوق کا ایوارڈ

تازہ ترین

تازہ ترین

اسلام آباد: پاکستان میں نیدرلینڈز کی سفیر ہینی ڈی وریس نے انسانی حقوق کے فروغ میں نمایاں کام کرنے پر وکیل اور انسانی حقوق کے محافظ ثاقب جیلانی کو ایمبیسی ہیومن رائٹس ٹیولپ ایوارڈ 2022 پیش کیا۔

ایمبیسی ٹیولپ ڈچ حکومت کا ایک سالانہ ایوارڈ ہے جو انسانی حقوق کے بے مثال اور بہادر محافظوں کے لیے ہے۔ جمعرات کو ہالینڈ کے سفارت خانے کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں  ایوارڈ کی وجوہات پر روشنی ڈالی گئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایوارڈ کے ذریعے نیدرلینڈ انسانی حقوق کے محافظوں کو اپنا کام جاری رکھنے اور اپنی کہانیاں شیئر کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ انسانی حقوق ہمیشہ لوگوں کے بارے میں ہوتے ہیں۔

نیدر لینڈز حکومت کا کہنا ہے کہ عوام کو انسانی حقوق کا تحفظ حاصل ہے اور کچھ لوگ انسانی حقوق کے دفاع، تحفظ اور ترقی کے لیے بے لوث کام کرتے ہیں، ثاقب جیلانی انسانی حقوق کے ایک بہادر محافظ کی ایک نمایاں مثال ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ثاقب جیلانی سب کے لیے مساوی حقوق کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ایک وکیل کے طور پر انہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق مقدمات میں خواتین اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی نمائندگی کی۔

نامور وکیل ثاقب جیلانی 2018 سے می ٹو سے متعلق ہتک عزت کیس میں ایک طویل عرصے سے ایک خاتون کا دفاع کر رہے ہیں۔ اس قانونی چارہ جوئی نے خواتین کے حقوق سے متعلق بنیادی سوالات اٹھائے ہیں۔

 

Related Posts