لاہور: بھارت کی نریندر مودی حکومت نے ایک بار پھر عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دریائے چناب کے بعد دریائے جہلم اور دریائے نیلم کا پانی بھی روک لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق دریائے جہلم اور دریائے نیلم میں پانی کا بہاؤ کم ہو کر صرف 3000 کیوسک رہ گیا، 4روز قبل پانی کی آمد 5000 کیوسک سے زائد ریکارڈ کی گئی تھی۔ ذرائع انڈس واٹر کمیشن کا کہنا ہے کہ دریاؤں کا پانی روکنا سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
بھارت کی آبی جارحیت کے باعث دریائے چناب اور دریائے جہلم میں پانی کا بہاؤ تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ ذرائع انڈس واٹر کمیشن کا کہنا ہے کہ چناب میں پانی کا بہاؤ 4روز قبل 10ہزار کیوسک تھا جو 5ہزار کیوسک کی سطح پر آگیا ہے۔ ہیڈ مرالہ کے مقام پر اخراج صفر رہ گیا۔
دوسری جانب آبی ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت کی آبی جارحیت کے باعث دریائے چناب سے قادر آباد خانکی بیراج سے نکلنے والی نہریں پانی سے محروم ہوجائیں گی اور لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی بنجر ہوجانے کا خدشہ ہے۔ انڈس واٹر کمیشن کو بھارتی اقدام کے خلاف عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کرنا ہوگا۔
اس سے قبل اقوامِ متحدہ کے خصوصی ماہرین کی ٹیم نے بھی سندھ طاس معاہد کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کے بھارتی اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سلامتی کونسل کے چارٹر کے خلاف قرار دیا تھا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارتی آبی اقدامات سے پاکستان کے غذائی تحفظ کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








