بھارتی دارالحکومت دہلی میں آج صبح مختلف علاقوں کے 9اسکولوں اور بھارتی پارلیمنٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں ملنے پر کھلبلی مچ گئی، بھارتی پولیس افسران کی دوڑیں لگ گئیں جبکہ مبینہ دھمکیوں کے تناظر میں شہری بھی خوف و ہراس کا شکار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق دھمکی آمیز ای میل آج ارسال کی گئیں۔ بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ای میلز صبح ساڑھے 8 سے 9 بجے کے درمیان خود کو خالصتان نیشنل آرمی ظاہر کرنے والوں کی جانب سے ارسال کی گئیں۔ ای میل بھیجنے والے نے دہلی بنے گا خالصتان کا نعرہ بھی لگایا۔
اس حوالے سے بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ ای میل بھیجنے والے کا کہنا ہے کہ آج شہید افضل گرو کی یاد میں بم دھماکہ ہوگا۔ دوپہر 1 بج کر 11 منٹ پر اسکولوں میں دھماکے ہوں گے۔ 13فروری کو دوپہر 1 بج کر 11 منٹ پر پارلیمنٹ کو دھماکے سے اڑایا جائے گا۔
میڈیا کا کہنا ہے کہ دہلی کے جن اسکولوں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں دی گئیں، ان میں دہلی کینٹ کے لوریٹو کانوینٹ اسکول، سری نواس پوری کیمبرج اسکول، روہنی وینکٹیشور اسکول، این ایف سی کیمبرج اسکول، انڈین اسکول صادق نگر، سی ایم شری اسکول روہنی، ڈی ٹی اے اسکول آئی این اے اور بھارتی اسکول روہنی شامل ہیں۔
دھمکیوں کی اطلا ملنے پر دہلی پولیس، فائر ڈپارٹمنٹ اور بم اسکواڈ تمام اسکولز میں پہنچے اور احاطوں کی تلاشی لی اور اسکولوں کو بچوں اور عملے سے خالی کرالیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان اسکولز کے علاوہ دیگر اسکولز کے متعلق بھی دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔
تاحال کسی بھی اسکول سے کوئی مشکوک چیز برآمد نہیں ہوسکی۔ بھارتی پولیس کا کہنا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کے باعث تمام مقامات پر سرچ آپریشن جاری ہے۔ سائبر سیل کو کالز کی حقیقت جاننے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ عوام نے شہریوں کو افواہوں پر کان نہ دھرنے کی ہدایت کی ہے۔ تمام اسکولز کی سکیورٹی سخت کردی گئی۔
فالس فلیگ آپریشن کا خدشہ
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی کوئی دہشت گرد دہلی میں واقع اسکولز یا پارلیمنٹ کو دھماکوں کے درست اوقات بتا کر دھماکے کرسکتا ہے؟ خاص طور پر بھارتی پارلیمنٹ کی اعلیٰ سطح سکیورٹی کو وقت بتا کر توڑنا اور دھماکے کرنا بذاتِ خود کوئی ممکن بات نظر نہیں آتی۔
اگر تو واقعی یہ دھمکیاں کسی دہشت گرد نے دیں تو دھماکوں کا وقت بتانے کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا، سکیورٹی فورسز کو مصروف کرنا اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنا ہوسکتا ہے کیونکہ دھماکوں کا درست قت معلوم ہونے پر سکیورٹی کو اس حساب سے ایڈجسٹ کیاجاسکتا ہے۔ اگر دہشت گرد درست وقت بتا دے تو سکیورٹی شیڈول، روٹس اور رسائی پر سکیورٹی سخت کرکے دہشت گردی سے بچنا آسان ہوجاتا ہے۔
تاحال نہ تو بھارت نے ایسی کسی دھمکی کا الزام پاکستان پر لگایا ہے اور نہ ہی پاکستان نے اس کا کوئی جواب دیا ہے، تاہم ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں پہلگام کی طرز پر کسی فالس فلیگ آپریشن کی تیاری میں ہوں اور بعد ازاں اس خود ساختہ دہشت گردی کا الزام بھی پاکستان پر لگایا جائے، جیسا کہ بھارتی حکومت ماضی میں بھی کرچکی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








