بھارتی اتر پردیش کے شہر سمبھل میں مغل دور کی شاہ جامی مسجد کے سروے کے دوران پرتشدد جھڑپوں میں چار افراد ہلاک ہو گئے، یہ جھڑپیں اتوار کی صبح ایک عدالتی حکم پر مسجد کے سروے کے دوران مقامی رہائشیوں اور پولیس کے درمیان ہوئیں۔
بھارتی میڈیا نیوز 18 کی رپورٹ کے مطابق تشدد کے نتیجے میں 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جس کے بعد علاقے میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی اور بارہویں جماعت تک کے اسکول بند کر دیے گئے۔
ڈی آئی جی مراد آباد رینج منیر راج نے بتایا کہ اب صورتحال قابو میں ہے اور اہم مقامات پر پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ اتوار کو تین ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی جبکہ چوتھا شخص پیر کے روز اسپتال میں دم توڑ گیا۔ حکام مجرموں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں اور انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔
پولیس نے احتیاطی تدابیر کے طور پر 21 افراد، جن میں دو خواتین شامل ہیں، کو حراست میں لے لیا ہے۔ ضلع بھر میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، اور قریبی علاقوں کو بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
تشدد اس وقت شروع ہوا جب شاہ جامی مسجد کے متنازعہ سروے پر قانونی تنازع شدت اختیار کر گیا۔ ہندو فریق کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد ایک قدیم مندر کی جگہ پر بنائی گئی تھی جبکہ مسلم فریق کا کہنا ہے کہ مسجد ایک ٹیلے پر تعمیر کی گئی تھی اور وہاں پہلے کوئی مندر موجود نہیں تھا۔
تشدد میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت محلہ کوت گڑوی اور سریا ترین کے رہائشی نعیم اور بلال جبکہ حیات نگر کے نعمان کے طور پر ہوئی ہے۔ چوتھے ہلاک ہونے والے کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔ مسجد کی ملکیت پر جاری قانونی تنازع علاقے میں کشیدگی کا باعث بنا ہوا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








