بھارتی بجٹ کی اندرونی کہانی، وہ 7 راز جو پاکستانی نہیں جانتے

تازہ ترین

تازہ ترین

بھارت
(فوٹو: یورو نیوز)

بھارت میں بجٹ کی تیاری کیلئے اتنا خفیہ قسم کا اہتمام کیا جاتا ہے جیسے پاکستان کیلئے کوئی سازش تیار کی جارہی ہو۔ بھارتی میڈیا نے حال ہی میں بجٹ سے متعلق ایسے 10حقائق بیان کیے جو کوئی بھی عام پاکستانی نہیں جانتا۔

سب سے پہلا راز یہ ہے کہ بھارتی بجٹ کسی عام جگہ شائع نہیں ہوتا بلکہ بجٹ کی چھپائی نارتھ بلاک کے تہہ خانے میں ایک خفیہ بنکر میں کی جاتی ہے اور بجٹ ٹیم کے 100 کے لگ بھگ اراکین 8سے 10روز قبل ہی بند کردئیے جاتے ہیں، جن کے پاس موبائل فون یا انٹرنیٹ نہیں ہوتا۔یہ سب کچھ بجٹ کی حفاظت کیلئے کیاجاتا ہے کیونکہ 1950 سے پہلے بجٹ لیک ہوگیا تھا۔

ایک اور راز یہ ہے کہ بجٹ شام کو 5 بجے پیش کیا جاتا تھا جسے 2001 میں بی جے پی حکومت کے یشونت سنہا نے بدل کر صبح کے 11 بجے کردیا کیونکہ شام 5 بجے کے وقت کے پیچھے ایک فرسودہ منطق تھی کہ جب برصغیر میں شام کے 5 بجتے تو لندن میں صبح کے ساڑھے 11 بجے ہوتے تھے۔

تیسرا راز یہ ہے کہ بجٹ سے پہلے حلوہ تیار کیا جاتا ہے اور بھارتی بجٹ کی تیاری سے قبل حلوے کی روایت صرف ایک بار ہی ٹوٹی تھی جب کورونا کے باعث بھارتی حکومت کو اس سے پیچھے ہٹنا پڑا تھا، بصورتِ دیگر وزیر خزانہ خود حلوے کی تیاری سمیت دیگر انتظامات میں پیش پیش رہتے اور پوری ٹیم کو کھلاتے بھی ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق چوتھا راز یہ ہے کہ بھارتی تاریخ کا سب سے چھوٹا بجٹ 1977 میں عبوری وزیر خزانہ سردار ولبھ بھائی پٹیل نے پیش کیا جبکہ سب سے طویل بجٹ نرملا سیتارامن نے 2020 میں پیش کیا جس کی پیشکش 2گھنٹے 42منٹ تک جاری رہی۔

پانچواں راز یہ ہے کہ آزادی کے بعد 10 سال تک بھارتی شہری عجیب و غریب ٹیکسز کا شکار رہے جیسے کراس ورڈ پزل یا مقابلوں میں جیتے جانے والے انعامات پر ٹیکس، تحائف پر ٹیکس اور اخراجات پر بھی ٹیکس جس پر نمایاں طور پر نظر ثانی تو ہوئی لیکن تحائف اور اہم اخراجات جیسے ٹیکسز باقی ہیں۔

چھٹا اور تاریخی راز یہ ہے کہ بھارت میں بجٹ پیش کرنے والی شخصیات میں پاکستان کے ایک وزیراعظم بھی شامل ہیں۔ 1946 میں لیاقت علی خان نے غریب آدمی کا بجٹ پیش کیا جس میں امیروں پر بھاری ٹیکس لگایا گیا تھا۔ حالانکہ موجودہ بھارت تو 1947 میں وجود میں آیا، لیکن بھارتی میڈیا کے مطابق جو بجٹ پیش کیا گیا، وہ بھارت کا ہی کہلائے گا، نہ کہ پاکستان کا، حالانکہ اس وقت پاکستان یا بھارت کا نہیں، بلکہ برصغیر کا وجود تھا جسے متحدہ ہندوستان بھی کہاجاسکتا ہے۔

ساتواں راز یہ ہے کہ بھارت کی تاریخ میں صرف 3 بار ہی ملک کا بجٹ وزیرخزانہ کی بجائے وزیر اعظم نے پیش کیا۔ سال 1958 میں ملک کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے بجٹ پیش کیا اور جب 1970 میں مرار جی ڈیسائی نے استعفیٰ دیا تو اندرا گاندھی اور پھر راجیو گاندھی نے بھی بطور وزیراعظم بجٹ پیش کیا تھا۔

Related Posts