پاکستان کی تابڑ توڑ کارروائیاں، بھارتی میڈیا کی 26 بھارتی اہداف پر حملوں کی تصدیق، بھارت میں چیخ و پکار

تازہ ترین

تازہ ترین

Indian Media Confirms Pakistan Military Strikes on 26 Targets
ONLINE

نئی دہلی/اسلام آباد: پاکستان نے بھارت کے خلاف ایک وسیع فوجی کارروائی کے دوران 26 اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

پاکستانی میڈیا نے یہ خبر متعدد بھارتی ذرائع ابلاغ کے حوالوں سے نشر کی جنہوں نے حملوں کی تصدیق تو کی ہے لیکن نقصانات کی تفصیلات محدود رکھی ہیں۔

یہ حملے پاکستانی فوج کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن “بنیان المرصوص” کا حصہ ہیں، جو بھارت کی طرف سے پاکستانی فضائی اڈوں پر کیے گئے میزائل حملوں کے ردعمل میں ہفتے کی صبح شروع کیا گیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق پاکستان نے جن اہم تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ان میں درج ذیل شامل ہیں:

اودھم پور ایئربیس

پٹھان کوٹ ایئرفیلڈ

برہموس میزائل ذخیرہ گاہ

کی جی ٹاپ پر واقع بریگیڈ ہیڈکوارٹر

اوڑی میں موجود سپلائی ڈپو

بھارتی میڈیا نے ان حملوں کی حقیقت کو تسلیم کیا ہے تاہم نقصانات یا ہلاکتوں کے حوالے سے مکمل تفصیلات دینے سے گریز کیا گیا ہے۔

سیکورٹی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بیک وقت 26 مقامات پر کی گئی کارروائی نہ صرف بھارت کی فرنٹ لائن عسکری صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا چکی ہے بلکہ یہ حملے بھارت کے دفاعی نظام میں بڑی دراڑ کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔

پاکستانی فوج نے صبح کے وقت جاری کردہ بیان میں خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت نے کسی قسم کا جوابی اقدام کیا تو پاکستان اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ جواب دے گا، جس میں بھارت کے “اعلیٰ قدر والے اور فیصلہ سازی سے متعلق اثاثوں” کو نشانہ بنایا جائے گا۔

دوسری جانب بھارتی حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم دہلی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس جاری ہے اور صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی برادری خاص طور پر اقوام متحدہ، امریکا، چین اور یورپی یونین نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی قسم کی مزید کشیدگی سے گریز کریں کیونکہ یہ دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور کسی بھی بڑی جنگ کا عالمی استحکام پر سنگین اثر پڑ سکتا ہے۔

یہ صورتحال نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن کے لیے ایک نازک موڑ بن چکی ہے، جہاں دونوں ممالک کے اقدامات کو دنیا بھر میں بغور دیکھا جا رہا ہے۔

Related Posts