بھارتی پروفیسر اشوک سوائن کی بےباک تنقید! مودی سرکار کے لیے دردِ سر بن گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں سے وابستہ ممتاز بھارتی پروفیسر اشوک سوائن کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے اسلامی ملک کا سربراہ اپنے دفتر میں ہندوؤں کے تہوار دیوالی کی تقریب منعقد کررہے ہیں جبکہ مودی کے نام نہاد سیکولر ملک بھارت میں مسلمان پر زندگی تنگ کی جارتی ہے۔

پروفیسر اشوک سوائن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر وزیر اعظم شہاز شریف کی جانب سے منعقد کی گئی دیوالی کی تقریب کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

اشوک سوائن نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں زیادہ تر لوگ مسلمان ہیں اور اس کا وزیراعظم بھی مسلمان ہوتا ہے جبکہ دیوالی ہندوؤں کا تہوار ہے لیکن پاکستانی وزیراعظم نے اپنے سرکاری گھر میں یہ تہوار منانے کا فیصلہ کیا تاکہ ملک میں مذہبی رواداری اور بھائی چارے کا پیغام دیا جا سکے۔

دوسری طرف بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی ہیں جو بھارت کو ایک سیکولر یعنی غیر مذہبی ملک کہتے ہیں لیکن وہ خود ایسی کوئی چیز پہننے سے گریز کرتے ہیں جو ان کی مذہبی یا ثقافتی شناخت کو ظاہر کرے جیسے کہ مسلمان لوگ جب مذہب کی علامت کے طور پر سر پر ٹوپی یا کلیہ پہنتے ہیں۔ اس سے ایک تضاد دکھائی دیتا ہے کہ بھارت میں سیکولر ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود کچھ مخصوص ثقافتی یا مذہبی علامات کو اپنانے میں احتیاط کی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل بھارتی پروفیسر اشوک سوائن نے ایکس پر کراچی میں دیوالی کی خوشیوں کی ایک خوبصورت ویڈیو بھی شیئر کی تھی جس میں ہندو برادری رنگ برنگے لباسوں میں ملبوس، خوشی سے جھومتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ مندروں کو روشن دیاﺅں، رنگولی اور آتشبازی سے سجایا گیا ہے اور ہر طرف خوشیوں کا سماں ہے۔

اس ویڈیو کے ساتھ پروفیسر نے تنقیدی انداز میں لکھا کہ پاکستان میں ہندو برادری دیوالی پورے جوش و خروش سے منا رہی ہے۔ کیا بھارت کے مسلمان بھی ایسی ہی آزادی اور تحفظ کے ساتھ عید منا سکتے ہیں؟۔

Related Posts