کراچی میں کم عمر دلہن کے ساتھ جنسی تشدد! ملزم کا ساتھ دینے والے ڈاکٹر کا انجام کیا ہوا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Court denies bail to doctor in teenage bride's marital rape, torture case
(فوٹو؛ فائل)

کراچی کی عدالت نے ایک کم عمر شادی شدہ لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی اور تشدد کے کیس میں ملوث ڈاکٹر کی عبوری قبل از گرفتاری ضمانت منسوخ کر دی ہے۔

یہ لڑکی دو ہفتے سے زیادہ عرصہ کومہ میں رہنے کے بعد 24 جولائی کو ڈاکٹر رتھ فاؤ سول اسپتال کراچی میں انتقال کر گئی تھی۔

ایڈیشنل سیشن جج عبد الظہور چانڈیو نے ڈاکٹر محمد رؤف کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے میں ان کے کردار پر سنگین سوالات اٹھے ہیں۔

استغاثہ کے مطابق ڈاکٹر پر الزام ہے کہ جب متاثرہ لڑکی کو علاج کے لیے ان کے کلینک لایا گیا تو انہوں نے واقعے کی اطلاع پولیس کو دینے کے بجائے لڑکی کے شوہر کے ساتھ مل کر جرم کو چھپانے کی کوشش کی۔

مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ ڈاکٹر نے ملزمان سے ایک تحریری بیان حاصل کیا جس میں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ معاملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں تک نہیں پہنچائیں گے۔

دفاع کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی آر میں ڈاکٹر کے خلاف کوئی براہِ راست الزام درج نہیں، وہ صرف بطور پیشہ ور معالج اپنا فرض انجام دے رہے تھے۔

وکیل نے کہا کہ سرجری کے دوران ڈاکٹر کو معلوم ہوا کہ متاثرہ لڑکی کو سنگین زخم آئے ہیں جن کے لیے قانونی کارروائی ضروری تھی۔

یاد رہے کہ 19 سالہ متاثرہ دلہن مبینہ طور پر اپنے شوہر کے ہاتھوں جسمانی و جنسی تشدد کا نشانہ بنی تھی، جس کے باعث وہ شدید زخمی حالت میں اسپتال لائی گئی۔

دو ہفتے تک کومے میں رہنے کے بعد وہ انتقال کر گئی جس پر پولیس نے شوہر سمیت دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

Related Posts