بھارتی سپریم کورٹ نے حال ہی میں دئیے گئے ایک فیصلے میں شوہر کے بیوی کو بڑھتے ہوئے وزن پر طعنے دینے اور گھریلو خرچ پر ایکسل شیٹ بنوانے جیسے اقدامات پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمام تر اقدامات ظلم نہیں ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ شوہر کا گھریلو اخراجات پر ایکسل شیٹ رکھنے کو کہنا ایسا ظلم نہیں جس کی بنیاد پر فوجداری کارروائی ہو۔ عدالت نے بیوی کے درج کرائے گئے مقدمے کو بھی خارج کردیا۔
اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اس قسم کے معاملات ازدواجی زندگی میں آپس کے جھگڑوں اور کشمکش کا مظہر ہیں جو ظلم نہیں کہلا سکتے۔ جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹا آرمہودیون پر شتمل 2 رکنی بینچ نے فوجداری ایف آئی آر خارج کردی۔
اس حوالے سے بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ مقدمے میں بیوی نے الزامات عائد کیے تھے کہ اس کا شوہر والدین کو رقوم ارسال کرتا ہے، بیوی سے روزمرہ اخراجات کا حساب رکھنے کیلئے ایکسل شیٹ بنواتا ہے، زچگی سے وزن بڑھا تو اس نے مسلسل طعنے دئیے۔
بیوی نے یہ بھی الزام لگایا کہ شوہر نے زچگی کے دوران دیکھ بھال نہیں کی جس پر بھارتی سپریم کورٹ نے کہا کہ اپنے خاندان کو پیسے بھیجنا بھی ایسا عمل نہیں جس پر فوجداری مقدمہ چلایا جائے۔ ایکسل شیٹ بنوانے کو درست مانیں تب بھی یہ ظلم نہیں۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ بھارت میں شوہر کی مالی اور معاشی بالادستی ظلم کی مثال نہیں بنائی جاسکتی، خاص طور پر جب کسی ٹھوس ذہنی یا جسمانی نقصان کا ثبوت موجود نہیں۔ بھارت میں گھر کے مرد اکثر مالی معاملات میں غلبے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسے ظلم نہیں کہاجاسکتا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








